تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 379
وہ جہنّم میں گرنے کے قریب پہنچ جاتا ہے تو یکدم اللہ تعالیٰ کے فضل کا ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔اور ایک دوسرا آدمی جنّت کے مستحق بنانے والے اعمال کرتا چلا جا تا ہے مگر اُس کے دل میں کوئی بدی مخفی ہوتی ہے جب نیک اعمال کرتے کرتے وہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ قریب ہوتا ہے وہ جنّت میں داخل ہو جائے تو یکدم اُس کی چھپی ہوئی بدی ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ جہنّم میں جا پڑتا ہے(صحیح بخاری کتاب القدر باب ما جاء فی القدر)۔پس یہ روایت خواہ بناوٹی ہے یا حقیقی لیکن بہرحال سبق آموز ہے اور چونکہ مجھے یہ روایت بہت پسند آئی ہےاس لئے گو میرے نزدیک اس آیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں مگر مَیں نے اسے بیان کر دیا ہے۔اس کا اپنی ماں کو یہ کہنا کہ مرنے کے بعد میرے چہرہ پر اپنے پیر رکھ کر کہنا کہ یہ سزا اُس شخص کی ہے جو خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے بتاتا ہے کہ اُس کے دل میں نیکی تھی اس نے سمجھا کہ مَیں بدی کے ایسے مقام پر پہنچا ہوا ہوںکہ اب میری زبان سے یہ بھی نہیں نکل سکتا کہ خدایا مَیں توبہ کرتا ہوں لیکن میرے نزدیک جب اس نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ میرے چہرہ پر اپنے پَیر رکھ کر یہ الفاظ کہنا تو عملی طور پر اُس نے توبہ کر لی معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی یہی ادا پسند آگئی اور اُس نے اسے جنّت میں داخل کر دیا۔پس یہ روایت خواہ بناوٹی ہو یا واقعہ صحیح ہو بڑی عمدہ روایت ہے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا کرشمہ انسان کی آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے۔مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ میں لفظ کریم کی تشریح صحابہ ؓ کے نزدیک تفاسیر کی ان ذوقی باتوں کے مقابلہ میں صحابہؓ نے وہی طریق اختیار کیا ہے جو اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک سمجھدار انسان اختیار کر سکتا ہے اور اس آیت کا جو مفہوم ثابت ہوتا ہے صرف اُس کو انہوں نے بیان کیا ہے ذوقی باتوں کی طرف وہ نہیں گئے چنانچہ سفیان بیان کرتے ہیں اَنَّ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا یَقْرَئُ یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَاغَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ فَقَالَ عُمَرُ اَلْجَھْلُ (ا بن ابی حاتم۔حوالہ ابن کثیر زیر آیت ھذا) کہ حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو یہ پڑھتے سُنا کہ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ اے انسان تجھے کس نے رب کریم پر جرأت دلا دی۔حضرت عمرؓ نے کہا جہالت نے۔اور کس نے۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بھی روایت ہے چنانچہ ابن ابی حاتم کہتے ہیں قَالَ ابْنُ عُمَرَ غَرَّہُ وَاللّٰہِ جَھْلُہٗ (ابن کثیر زیر آیت ھذا) کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ خدا کی قسم اسے جہالت نے مغرور کر دیا۔ابن عباس اور الربیع ابن خیثم اور حسن بصری سے بھی یہی مروی ہے (ابن کثیر زیر آیت ھذا) اور قتادہ سے آیت مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِکے متعلق روایت ہے وہ کہتے ہیں مَاغَرّابْنَ اٰدَمَ غَیْرُ ھٰذَا الْعَدُوِّ الشَّیْطٰنُ۔(ابن کثیر) کہ ابن آدم کو کسی نے جرأت نہیں دلائی سوائے اُس دشمن کے جس کا نام شیطان ہے صوفیاء نے جو معنے کئے ہیں وہ اس بنا پر کئے