تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 378
معلوم ہوا کہ ایک بھی نہیں آیا کیونکہ جو ساتھ آئے ہیں وہ صرف مزدور ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے یہ جواب دے کر وہ مزدور تو چلے گئے اور اُس عورت نے جو اُن کو لائی تھی آسمان کی طرف اپنے ہاتھ اٹھا کر دُعا مانگنی شروع کر دی۔جب دُعا مانگ چکی تو اس نے قہقہ لگایا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔وہ کہتے ہیں میں یہ نظارہ دیکھ کر مبہوت سا ہو گیا کہ یہ تماشہ کیا ہو رہا ہے چنانچہ مَیں نے اس عورت کا دامن پکڑ لیا اور کہا کہ مائی مَیں نے تجھے جانے نہیں دینا پہلے مجھے بتائو کے اصل حقیقت کیا ہے۔اوّل تو اس جنازہ میں کوئی مسلمان شامل نہیں ہوا۔پھر تُم نے دعا کی اور دُعا کے بعد ہنس پڑیں اِس کی وجہ بھی میری سمجھ میںکوئی نہیں آتی مجھے سچ سچ بتائو کہ یہ ماجرا کیا ہے اس نے کہا لو سنو یہ میرے لڑکے کا جنازہ تھا اور وہ سخت بدکار اور گنہ گار تھا قسم قسم کے گناہوں میں وہ مبتلا رہتا تھا اور باوجود سمجھانے کے اپنی حرکات سے باز نہیں آتا تھا چند دن گزرے کہ یہ بیمار ہو گیا۔جب اس کی بیماری پر تین دن ہو گئے تو اس نے مجھے بلایا اور کہا امّاں مَیں اب بچتا نظر نہیں آتا۔جب میں مر جائوں تو ہمسائوں کو خبر نہ دینا کیونکہ وہ میری موت سے خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ اچھا ہوا وہ مر گیاہے اور پھر جنازہ میں بھی انہوں نے شامل نہیں ہونا اس لئے انہیں اطلاع دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔مزدور لے کر مجھے دفن کرا دینا صرف اتنی مہربانی کرنا کہ ایک انگوٹھی پر لَآ اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ لکھ کر میری انگلی میں ڈال دینا اور میری لاش کو نہلا دُھلا کر میرے چہرہ پر اپنا پَیر رکھ کر کہنا کہ خدا کے گنہ گاروں کی یہی سزا ہوتی ہے پھر جب مجھے دفن کر چکو تو ہاتھ اُٹھا کر میرے لئے دُعا کرنا اور کہنا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ رَضِیْتُ عَنْہُ فَارْضِ عَنْہُ اے اللہ میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔وہ کہنے لگی مَیں نے اس کی موت کے بعد جس طرح اُس نے کہا تھا اسی طرح کیا۔نہلا دُھلا کر اس کے مُنہ پر مَیں نے اپنا پائوں رکھا اور کہا کہ یہی جزا اس شخص کی ہے جو خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور مَیں نے محلہ والوں کو بھی اطلاع نہ دی اور پھر چار مزدور اُجرت پر لے لئے اور انہیں ساتھ لےکر اپنے بیٹے کو دفن کر دیا جب میں دفن کر چکی تو مَیں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ یا اللہ مَیں نے اس کے سب گناہ بخش دئے ہیں تو تو بہت زیادہ رحیم و کریم ہے تُو بھی اپنے فضل سے اس کو بخش دے۔جب میں یہ دُعا کر چکی تو یکدم مجھ پرکشفی حالت طاری ہوئی اور مَیں نے اپنے لڑکے کی یہ آواز سنی جو نہایت صاف طور پر مجھے سنائی دی کہ اِنْصَرِ فِیْ یَا اُمِّی فَقَدْ قَدِمْتُ عَلٰی رَبٍّ کَرِیْمٍ فَرَضِیَ عَنِّیْ اس پر خوش میں میری ہنسی زور سے نکل گئی۔(روح البیان زیر آیت ھذا) یہ واقعہ اللہ بہتر جانتا ہے صحیح ہے یا غلط۔امام قشیری بڑے پایہ کے آدمی ہیں اس لئے ممکن ہے یہ واقعہ انہوں نے تحقیق سے ہی لکھا ہو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے بھی اس رنگ میں فرمایا ہے کہ بعض دفعہ ایک آدمی دوزخیوں کے کام کرتا چلا جاتا ہے مگر اُس کے اندر کوئی نیکی مخفی ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب بُرے اعمال کرتے کرتے