تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 34
اپنی باتیں پہنچانے کے سوا چین ہی نہیں آتا۔اُنہیں لاکھ گالیاں دی جائیں وہ اپنے کام سے نہیں رُکتے اور لوگوں کی ہدایت کے لئے ان کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے زمانہ میں بھی ہم مُخالفوں کے مُنہ سے یہ فقرہ سنا کرتے تھے کہ احمدی تو ہمارا پیچھا ہی نہیںچھوڑتے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًاہم نے ایک ایسا سورج بنا دیا ہے جو وَھَّاج ہے اور جس کی گرمی اور روشنی دور دور تک جاتی ہے۔دوسرےؔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی عالمگیر تعلیم کی طر ف بھی اس میں اشارہ ہے اور اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ جس طرح سورج کا نور ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے اِسی طرح محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی تعلیم ایک دن ساری دنیا میںپھیل جائے گی۔تم مکّے کا رونا رو رہے ہو اور کہہ رہے ہو کہ مکّہ میں اسلام پھیل گیا دس بیس پچاس برس کے بعد ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ یہ سِرَاج وَھَّاج بن جائے گا اور اس کی روشنی ساری دنیا پر چھا جائے گی۔تیسرے ؔ دُور تک گرمی اور روشنی کے پھیلنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کا زمانہ ٔ افادہ زمانہ کے لحاظ سے بھی بہت ممتد ہے اور جس طرح یہ دنیوی سورج قیامت تک مادی دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرتا رہے گا رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کا افاضۂ روحانی بھی دنیا کے اختتام تک چلتا چلا جائےگا۔وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ۰۰۱۵ اور ہم نے گھنے بادلوں سے کثرت سے بہنے والا پانی (بھی) اتارا ہے۔حل لغات۔مُعْصِرَۃٌ مُعْصِرَۃٌکے معنے ہوتے ہیں وہ بدلی جس میں نمی کی بہت زیادتی ہو اور اُس میں سے بارش کے قطرات گرتے ہوں۔اَلْمُعْصِرَۃُ۔اَلسَّحَابَۃُ تُعْتَصَرُ بِالْمَطَرِ۔یعنی مُعصِرَۃُ اُس بدلی کو کہتے ہیں جس میں سے پانی کے قطرے ٹپکے پڑتے ہوں۔پس مُعْصِرَات کے معنے ہوئے اَلسَّحَائِب تُعْتَصَرُ بِالْمَطَرَ (اقرب)وہ بادل جن میں سے پانی کی کثرت کی وجہ سے قطرے ٹپک پڑتے ہیں اور مُعْصِرَۃٌ اُس ہوا کو بھی کہتے ہیں جس کے ساتھ بگولہ آتا ہے چنانچہ اَعْصَرَتُ الرِّیحُ کے معنے ہیں جَاءَ تْ بِالْاِعْصَارِ (اقرب) ہوا کے ساتھ بگولہ آیا۔لیکن محاورہ کی رو سے اَلْمُعْصِرَات: أَلسَّحَائِبُ تُعْتَصَرُ بِالْمَطَرَ کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔گو مُعصِرَۃ کے معنے ہوا کے بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ بعض صحابہؓ نے کئے ہیں لیکن چونکہ عام محاورہ میں مُعصِرَۃ اُس ہوا کو کہتے ہیں جس کے ساتھ بگولہ ہواور یہ معنے یہاں پور ی طرح چسپاں نہیں ہوتے اس لئے یہاں زیادہ مناسب معنے