تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 33
فصلوںکے اُگانے میں بہت بڑا ہے اگر سورج کی گرمی اور اُس کی شعائیں نہ پہنچیں تو زمین کے بعض ایسے مادے جن سے فصلیں اُگتی ہیں بالکل ختم ہو جائیں۔جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًاکے الفاظ سے قیامت کی طرف لطیف اشارہ جہاں تک سِرَاجًا وَّھَّاجًا کا تعلق ہے اس میں تو میں سمجھتاہوں قیامت کی طرف اس رنگ میں اشار ہ ہے کہ ایک چیز جو اپنی ذات میں جل رہی ہے وہ آخر ایک وقت ختم ہو جائے گی اور جب وہ ختم ہو جائے گی تو نظامِ شمسی میں ضرور کوئی اہم تبدیلی رُونما ہو گی۔چنانچہ علم ہئیت کے جو بڑے بڑے ماہرین ہیں وہ قیامت کے قائل ہو رہے ہیں۔اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں سورج چھوٹا ہوتا جا رہا ہے اور اسی طرح یہ چھوٹا ہوتا چلا جائے گا یہاں تک ایک دن اس کا وجود نظامِ عالم میں بالکل بیکار ہو جائے گااور اس کے ساتھ ہی باقی تمام سیّارے فنا ہو جائیں گے۔گو اس کے ساتھ ہی علم ہئیت والوں کا یہ بھی خیال ہے کہ جہاں تک گرمی کا تعلق ہے سورج کی گرمی گھٹ نہیں رہی بلکہ بڑھ رہی ہے اور جوں جوں وہ اپنے مرکز کے قریب آتا جاتا ہے اس کی گرمی تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو شدید گرمی پیدا ہو جائے گی۔آیت سِرَاجًا وَّهَّاجًامیں غلبہ اسلام کی پیشگوئی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غلبہ یا قرآن کریم کے غلبہ کے مفہوم کو اگر ہم لیں تو میرے نزدیک اس میں ایک مخفی اشارہ ہجرت کی طرف معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان الفاظ کے ذریعہ کفّار مکہ کو توجہ دلاتا ہے کہ اب تومحمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمہارے پاس بیـٹھے ہیں اور تم کہتے ہو یہ ہمیں دق کرتے ہیں۔یہ ہمارے بُتوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔یہ ہمیں تبلیغ کرتے ہیں۔یہ ہمیں آباؤاجداد کی اتباع کرنے سے روکتے ہیں۔اور جب یہ تمہیں کوئی نیک بات بتاتے اور تمہیں وعظ و نصیحت کرتے ہیںتو تم شور مچانے لگ جاتے ہو اور چاہتے ہو کہ کسی طرح ان کو اپنے شہر سے نکال دو اور اس طرح امن میں آجائو مگر تمہیں پتہ نہیں ہم نے اپنے اس رسول کو سِرَاجًا وَّھَّاجًا بنایا ہے ایک دن یہ تم سے دُور چلا جائے گا مگر پھر بھی تم اس کی گرمی سے نہیں بچو گے بلکہ برابر اس کی گرمی تمہارے پاس پہنچتی رہے گی اور اس کی روشنی تم میں سے سعید روحوں کی تاریکی کو دُور کرتی رہے گی۔اگر قرآن مراد لے لو تب بھی یہ معنے ہوں گے کہ ایک دن قرآن کا مرکز تم سے دور ہو جائے گامگر تم یہ نہ سمجھوکہ دور ہو جانے کی وجہ سے تم اس کے اثر سے بچ سکو گے بلکہ پھر بھی قرآن کریم کی تعلیم کا اثر تم تک پہنچےگا اور وہ تمہیں اپنا شکار بنائے گا۔آیت جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا میں اسلام کے عالمگیر ہونے کا ثبوت انبیاء کے زمانہ میں کچھ ایسا شور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوںمیں کچھ اس قسم کا اخلاص پیدا کر دیتا ہے کہ انہیں تبلیغ کرنے اور دوسروں تک