تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 375
تفسیر۔يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ میں الانسان سے مراد یہاں بھی اَلْاِنْسَان سے مراد ہر انسان نہیں بلکہ وہی عَلِمَتْ نَفْسٌ والا انسان مراد ہے کہ نفس دنی رکھنے والے انسان مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ آخر یہ تو بتا تجھے تیرے رب کریم پر جرأت کس نے دلائی۔مَا غَرَّکَ کے معنے مَا غَرَّکَ بِفُلَانٍ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے معنے ہوتے ہیں کَیْفَ اِجْتَرَأْتَ عَلَیْہِ (اقرب) تُو نے کس طرح اس کے خلاف جرأت سے کام لیا پس مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ کے معنے ہوں گے کَیْفَ اِجْتَرَ أْتَ عَلٰی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَاَمِنْتَ مِنْ عِقَابِہٖ وَلَمْ تَکُنْ ھٰذِہٖ الْجُرْأَۃُ جَائِزَۃً لَّکَ کہ تُو نے کس طرح اُس کی معصیت پر جُرأت کی اور اُس کے عذاب سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ لیا حالانکہ یہ جرأت تیرے لئے مناسب نہیں تھی۔رب کے ساتھ کریم کالفظ لانے کی وجہ کَرِیْم کا لفظ یہاں اُن کی اس جرأت کی عدم مناسبت کے اظہار کے لئے لایا گیا ہے۔ایک فعل ایسا ہوتا ہے جو دوسرے کی شان کے لحاظ سے مناسب ہوتا ہے مگر بِرَبِّکَ کہہ کر بتایا کہ تجھے اپنے رب پر کس طرح جرأت ہوئی اور کَرِیْم کہہ کر بتایا کہ تمہارا یہ فعل تو کسی صورت میں بھی مناسب نہیں تھاکیونکہ وہ نہ صرف تمہارا رب تھا بلکہ رب کریم تھا اپنے رب کو کریم دیکھ کر توتمہارے اندر شرم اور حیا کا مادہ پیدا ہونا چاہیے تھا نہ یہ کہ اُلٹا اس کے احسانات سے نافرمان بن جاتے اور محسن کی ہتک کا موجب ہو جاتے۔جائز موقع پر اگر کوئی جُرأت سے کام لیتا ہےتو اُس میں شرافت کا مادہ سمجھا جاتا ہے اور نا جائز موقع پر اگر کوئی جرأت دکھاتا ہےتو وہ تہّور سے کام لینے والا سمجھا جاتا ہے لیکن فرماتا ہے تمہارا یہ فعل تو تہّور بھی نہیں۔اس میں تو کمینگی اور رذالت پائی جاتی ہے کہ تم نے محسن کشی کی اپنے رب کو کریم دیکھ کر بجائے اس کے کہ اس کی اطاعت کرتے تم نے اس کی نافرمانی کرنی شروع کر دی اور ایسے عقائد اختیار کر لیے جو خدا تعالیٰ کی شان کے بالکل خلاف ہیں۔آیتمَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ میں لفظ کریم پر پہلے مفسرین کی ضمنی بحثیں یہاں بھی مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ کے ماتحت ضمنی بحث کے طور پر مفسّرین نے عجیب عجیب باتیں بیان کی ہیں۔بعض صوفیاء نے لکھا ہے کہمَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ تمہارےجرموں کے متعلق تم سے سوال کرے تو تم اُسے کیا جواب دو۔اور وہ جواب یہ ہے کہ ہمارا رب چونکہ کریم ہے اس لئے ہمیں غرور پید اہوا اور ہم نے یہ گناہ کئے۔چنانچہ بقول ان کے حضرت فضیلؓ سے کسی نے پوچھا کہ آپ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے تو انہوں نے کہا میں تو خدا تعالیٰ سے یہ کہوں گا کہ تیرے عفو اور احسانات کے پردوں نے مجھے مغرور کر دیا(الکشاف زیر آیت ھذا)۔مگر اس طرف اُن کا ذہن اس وجہ سے گیا ہے کہ انہوں نے ساری سورۃ کے معنے نہیں سمجھے۔صرف ایک ٹکڑہ لے لیا اور