تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 374
پیچھے کیا تھا چونکہ قبور کا اُکھیڑنا بڑا گندہ کام تھااور دوسری طرف انہوں نے اتنا بڑ ا شرک کیا تھا جس سے آسمان پھٹ گیا اور یہ دونوں کام ایسے ہیں جس سے فطرت کو گھن آتی ہے اس لئے ان کی تحقیر کرتے ہوئے فرماتا ہے یہ حقیر جان جان لے گی مَاقَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ جو کام اسے آگے کرنا چاہیے تھا اُسے اُس نے پیچھے کر دیا اور جو کام پیچھے کرنا چاہیے تھا اُسے اُس نے پہلے کر دیا۔یہ الفاظ بھی اس کی حقارت کے لئے استعمال کئے گئے ہیں چنانچہ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی ذات جسے مقامِ عالی دینا چاہیے تھا اُسے تو ان لوگوں نے نیچا کر دیا اور مسیح ؑ جو خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا اُسے خدا کے تخت پر بٹھا دیا چنانچہ عیسائی حضرت مسیح ؑ سے ہی دُعائیں مانگتے ہیں خدا سے نہیں مانگتے گویا خدا تعالیٰ اُن کے نزدیک نعوذباللہ پنشن پر چلا گیا ہے اب خدائی کا کام صرف مسیح کے ہاتھ میںہے پس قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ کا ایک نمونہ انہوں نے یہ دکھایا ہے کہ خدا کو ایک بندے کا درجہ دے دیا اور بندے کو خدا کا درجہ دے دیا اور دوسرا نمونہ یہ کہ گزشتہ وفات یافتہ لوگوں کی لاشوں کو نکال کر ایک تماشہ کے طور پر عجائب گھروں میں رکھتے ہیں اور چونکہ قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ میں آگے پیچھے کا مفہوم ہوتا ہے اِس لئے اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ وہ جان لیں گے کہ انہوں نے کس کام کو کیا اور کس کو نہ کیا۔محاورہ میں بھی کہا جاتا ہے کہ تم نے کس کام کو اختیار کر لیا اور کس کو نہ کیا کس کو ترجیح دے دی اور کس کو نہ دی پس مطلب یہ ہوا کہ اِس ذلیل جان کو علم ہو جائے گا کہ کون سا کام کرنے والا تھا اور کون سا کام کرنے والا نہیں تھا یعنی وہ کام جو کرنے والے تھے وہ تو انہوں نے نہ کئے اور جو کام نہ کرنے والے تھے وہ انہوں نے کر لئے۔ایک معنے اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جب اُوپر کے واقعات ظاہر ہوں گے شرک پھیل جائے گا اور بادشاہوں اور سرداروں کی طاقت توڑ کر رکھ دی جائے گی اور سمندر ملا دئے جائیں گے اور قبریں کھود کر بکھیر دی جائیں گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ اس جان ناتوان کو جو اس طرح خدائی اپنے ہاتھ میں لینی چاہے گی معلوم ہو جائے گاکہ کیا کرنا چاہیے تھا اور کیا نہیں یعنے شرک کی بُرائی اور دنیا کے انہماک کی غلطی ان پر کھل جائے گی اور یہ پھر ایک دفعہ توحید کی طرف لوٹیں گے اور اپنی غلطیوں پر نادم ہوں گے۔يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِۙ۰۰۷ اے انسان تجھے کس نے تیرے محسن رب کے بارے میں مغرور بنا دیا ہے۔حل لغات۔اَلْکَرِیْمُ اَلْکَرِیْمُ کے معنے ہیں ذُوالْکَرَمِ۔احسان والا۔(اقرب)