تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 371
پھاڑ کر نہیں ملایا گیا۔سورۂ تکویر کی آیت وَاِذَاالْبِحَارُ سُجِّرَتْ کی تشریح میں دریائوں سے نہریں نکالے جانے کا مفہوم اس بناء پر بیان کیا گیا تھا کہ وہ سورۃ آخری زمانہ سے تعلق رکھنے والے عام حالات کی طرف راہنمائی کرتی تھی لیکن یہ سورۃ ایسی ہے جس کاعیسائیوں کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہے اور اس سورۃ میں انہی علامات کا ذکر پایا جاتا ہے جو مخصوص طور پر عیسائی اقوام میں پائی جانے والی تھیںاور چونکہ سمندروں کو پھاڑ کر آپس میں ملا دینے کی اس سے پہلے اور کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی اس لئے پہلی آیت میں جہاں عام حالات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے بحار سے دریا مراد لئے گئے تھے وہاں اس جگہ عیسائیوں کے مخصوص حالات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے بحار سے سمندر مراد لئے جائیں گے اور معنے یہ ہوں گے کہ وہ سمندروں کو چیر کر ایک دوسرے سے ملا دیں گے۔اِذَاالْبِحَارُ فُجِّرَتْ میں یہ اشارہ کہ کلیسیا گندہ ہو جائے گا دوسرےؔ معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں اور ہیں کہ بحر اس جگہ وسیع علم رکھنے والے انسان کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس صورت میں وَاِذَاالْبِحَارُ سُجِّرَتْ کے یہ معنے ہوںگے کہ جس وقت مسیحی پادریوں کی طرف سے کثرت سے فسق وفجور منسوب کیا جائے گا گویا اِدھر عیسائیت دنیا پر غالب آجائے گی اور شرک کی تعلیم لوگوں میں پھیلا دے گی اور دوسری طرف کلیسیا بالکل گندی ہو جائے گی۔گویا جسمانی لحا ظ سے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ سمندروں کو پھاڑیں گے اور روحانی لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کلیسیا بالکل خراب ہو جائے گی۔اِذَاالْبِحَارُ فُجِّرَتْکے یہ معنے کہ دریاؤں کے دہانے کھولے جائیں گے تیسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ اس زمانہ میں دریائوں کو وسیع کر دیا جائے گا اور ان کا راستہ کھلا کر دیا جائے گا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میںیورپ اور امریکہ کے بہت سے دریائوں کے دہانے اس طرح کھول دئے گئے ہیں کہ بڑے بڑے جہاز ان میں سے گزر جاتے ہیںپہلے سمندروں کے قریب جا کر دریا پھٹ جاتے تھے۔اور پھیل کر چھوٹی چھوٹی نالیوں میں سمندر ملتے تھے مگر اس زمانہ میں بہت سے دریا فرانس ، جرمنی،آسٹریا، انگلینڈ اور امریکہ کے دہانوں کے پاس ایک گہرے نالے کی صورت میں بدل دئیے گئے ہیںجن کی وجہ سے وہاں جہاز بھی چلنے لگے ہیں اور بعض جگہ تو سو سو دو دو سو میل تک جہاز سمندر کے دہانہ سے دریا کے ذریعہ سے اندرون ملک میں چلے جاتے ہیں اور اس طرح اموال تجارت بہ سہولت اور تھوڑے خرچ پر مُلک سے باہر بھی جاتا ہے اور اندر بھی آ جاتا ہے۔