تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 370

پیدا ہو رہا ہے مگر وہ کامل نہیں اس جگہ چونکہ یوروپین اقوام کا ذکر ہے اس لئے فرماتا ہے کہ یوروپین قوموںمیں جو تغیّر پیدا ہو گا وہ ایسا ہو گا کہ قوم پر اثر رکھنے والے لوگ خواہ نسلی سردار ہوں یا فنّی سردار ہوں بالکل گر جائیں گے اور دوسری قومیں اُن کی جگہ لے لیں گی لیکن غیر اقوام میں یہ تغیّر پیدا ہو گا کہ اُن میں صرف بڑے لوگوں کا رسوخ کمزور ہو جائے گا۔وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ۰۰۴ اور جب سمندر پھاڑ (کرملا )دیئے جائیں گے۔حَلّ لُغَات۔فُـجِّرَتْ فُـجِّرَتْ فَـجَّرَ سے مجہول کا مؤنث کا صیغہ ہے اور فَـجَّرَ کے معنے وہی ہیں جو فَـجَرَ کے ہیں اور اِن دونوں میں سوائے اس کے اور کوئی فرق نہیں کہ فُـجِّرَ میں تشدید مبالغہ کے لئے استعمال کی جاتی ہےورنہ فَـجَرَ بھی متعدی ہے اور فَـجَّرَ بھی متعدی ہے فَـجَرَ الْمَائَ کے معنے ہوتے ہیں فَتَحَ لَہٗ طَرِیْقًا فَجَرٰی اس نے پانی کے لئے راستہ کھولا اور وہ بہنے لگ گیا اور فجر الْقَنَاۃَ کے معنے ہوتے ہیں شَقَّھَا وَقِیْلَ شَقًّا وَاسِعًا پانی کی نالی کو خوب کھلا بنایا اور جب فَـجَّرَ الرَّجُلُ کہیں تو اس کے معنی ہوں گے اَنْسَبَہٗ اِلَی الْفَجُوْرِ اُس کو فجور کی طرف منسوب کیا۔(اقرب) تفسیر۔اِس آیت کے الفاظ بھی قریبًا وہی ہیں جو پہلی سورۃ میں تھے وہاں فرمایا تھا وَاِذَاالْبِحَارُ سُجِّرَتْ اور یہاں فرمایا ہے وَاِذَاالْبِحَارُ فُجِّرَتْ مَیں بتا چکا ہوں کہ سورۂ انفطار میں ایک مخصوص مضمون کی طرف اشارہ ہے جو عیسائیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے یہ سب علامات عیسائیوں پر چسپاں ہوں گی۔اِذَاالْبِحَارُ فُجِّرَتْمیں سمندر وںکے آپس میں ملائے جانے کی پیشگوئی مَیں سمجھتا ہوں اس آیت کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ عیسائی اپنی ترقی کے زمانہ میں سمندروں کو پھاڑ کر آپس میں ملا دیں گے چنانچہ اِس کی نمایاں مثال نہر سویز اور نہر پانامہ پیش کرتی ہیں اور یہ دونوں عیسائیوں کی بنائی ہوئی نہریں ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں بڑی بڑی شاندار نہریں پائی جاتی ہیں۔ایرانیوں نے بھی نہریں بنائی ہیں۔پٹھانوں نے بھی بنائی ہیں اور مغلوں نے بھی بنائی ہیں مگر اس فن میں گو یورپ نے بڑی ترقی کی ہے مگر وہ منفرد اور موجد نہیں مگر اس آیت میں جو علامت بتائی گئی ہے کہ سمندر پھاڑ کر آپس میں ملا دئے جائیں گے اس میںیورپ منفرد ہے اس سے پہلے دو سمندروں کو زمین