تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 366

غلبہ عیسائیت کو حاصل ہو ا ہے اس قسم کی ترقی اور غلبہ کی مثال درحقیقت اسلام کے زمانہ میں بھی نہیں ملتی۔فرق یہ ہے کہ اسلام نے ایک چھلانگ میں ترقی کی ہے اور انہوں نے بیسیوں چھلانگوں میں ترقی کی ہے پھر اسلام کی ترقی تو معجزانہ تھی مگر ان کی سب ترقیات غیر معجزانہ ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک مادیات کا سوال ہے اسلام کے غلبہ سے یہ غلبہ بڑھ گیا ہے کیونکہ اسلام اپنے ہر ماننے والے کو انصاف سکھاتا ہے اور وہ ظلم اور بے انصافی کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔مگر یہ لوگ وہ ہیں جو نہ انصاف کی پروا کرتے ہیں نہ ظلم سے ڈرتے ہیں نہ حقوق غصب کرنے سے گھبراتے ہیں۔مغرب سے مشرق کے انتہائی کناروں تک یہ لوگ پھیلتے چلے گئے اور مسیح ؑ کی عظمت دلوں میں قائم کرتے گئے۔یہ اثر لوگوں کے قلوب پر اس حد تک ہے کہ عیسائیوں میں ایسے کئی لوگ مل جائیں گے جو تین خدائوں کے قائل نہیں ہوں گے مگر مسیح ناصریؑ کی عظمت اُن کے دلوں میں برابر قائم ہو گی مجھے ایک دفعہ انگلستان میں ایک دہریہ ڈاکٹر ملنے کے لئے آیا اور مَیں نے دیکھا کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیتا۔مَیں نے اسے سمجھایا کہ یہ طریق درست نہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر تمہیں حملہ نہیں کرنا چاہیے مگر وہ آریوں کی طرح برابر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے کرتا چلا گیا۔آخر جب مَیں نے دیکھا کہ وہ میرے صبر سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرنے میں بڑھ رہا ہے تو مَیں نے یسُوع کی حقیقت اس کے سامنے کھولنی شروع کر دی۔ابھی مَیں نے چند ہی باتیں کی تھیں کہ اس کا رنگ سُرخ ہو گیا اور کہنے لگا۔آپ مسیح ؑ کا ذکر کیوں کرتے ہیں مَیں نے کہا مَیں سمجھ گیا ہوں کہ گو تم دہریہ ہو مگر تمہارے دل میں عیسائیت باقی ہے اس لئے میں مسیح ؑ کا ضرور ذکر کروں گا۔وہ کہنے لگا مَیں مسیح ؑکے خلاف کوئی بات نہیں سُن سکتا۔مَیں نے کہا تو میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی بات نہیں سُن سکتا۔اگر تم رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر حملہ جاری رکھو گے تو تمہیں مسیح ؑ کے خلاف بھی میری زبان سے باتیں سننی پڑیں گی اس پر غصہ میں اس نے بات بند کر دی اور چلا گیا تو مَیں نے دیکھا ہے بعض لوگ اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ یورپ میں دہریت پائی جاتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ عیسائیت سے بیزار ہو چکے ہیں حالانکہ دہریہ ہونے کے باوجود اُن کے دلوں سے مسیح ناصریؑ کی عظمت نہیں گئی۔یہی رگ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پکڑی اور جس کی وجہ سے مسلمانوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دئے آپ نے فرمایا جب تک مسیح ؑ کو دفن نہیں کیا جائے گا عیسائیت کبھی مر نہیں سکتی۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۰۲)یہ صرف مسیح ؑ کے پرستار ہیں اور عقائد سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ آسمان پھٹ جائے گا۔آسمان پھٹ جانے کے معنے یہ ہیں کہ بڑی