تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 365
کے غلبہ کی طرف اس سورۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔سورۂ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا۔اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا (مریم :۹۱،۹۲)قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیںاور زمین بھی پھٹ جائے اور پہاڑ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائیں۔اس وجہ سے کہ ان لوگوںنے رحمٰن کا ایک بیٹا تسلیم کیا ہے جس وقت قرآن کریم نازل ہوا ہے اس وقت عیسائیت کو دنیا کے بہت تھوڑے حصہ پر غلبہ حاصل تھا اور وہ عام تبلیغ بھی نہیں کرتے تھے اُس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جتنا شرک عیسائیوں کی طرف سے اس وقت کیا جاتا ہے قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں پھر اگر کوئی ایسا زمانہ آجائے جب اُس سے دس بیس بلکہ سو گُنا زیادہ شرک پھیل جائے تو لازمی طور پر قرآنی محاورہ کے مطابق ہم یہی کہیں گے کہ آسمان پھٹ گیا چنانچہ دیکھ لو روما کی حکومت عیسائی تھی مگر ساری دُنیا اُس کے ماتحت نہیںتھی صرف ترکی۔مصر۔حبشہ اور یونان اس کے ماتحت تھا گویا وسطی ایشیا کا ایک جزو تھا جس پر وہ حکمرانی کر رہی تھی مگر آج عیسائیت کو ساری دنیا پر غلبہ حاصل ہو چکا ہے۔پھر عیسائیت کی تبلیغ کے لئے جن تدابیر کو اس زمانہ میں اختیار کیا گیا ہے وہ پہلے کبھی اختیار نہیں کی گئیںکروڑوں کروڑ انجیل کے نسخے دُنیا کے کونے کونے میںپھیلا دئے گئے ہیں۔لاکھوں روپیہ اپنے مشنوں کی کامیابی پر خرچ کیا جاتا ہے مدرسے بنائے جاتے ہیں تاکہ اُن کے ذریعہ لڑکوں کو عیسائیت کا شکار بنایا جا سکے۔کالج بنائے جا رہے ہیں تاکہ عیسائیت کا زہر نوجوانوں کے قلوب میں داخل کیا جائے، کوڑھی خانے بنائے جا رہے ہیں۔شفاخانے تیار ہو رہے ہیں اور ان سب کی غرض صرف یہی ہے کہ لوگ ایک خدا کی پرستش چھوڑ دیں اور تین خدائوں کو ماننے لگ جائیں پس جب عیسائیت کے قلیل غلبہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں کیونکہ یہ لوگ مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا قرار دے رہے ہیںتو اب جبکہ شرک تمام دنیا میںپھیل چکا ہے اور عیسائیت کا غلبہ اپنے کمال تک جا پہنچا ہے یہ کیوںنہیں کہا جائے گا کہ وہ آسمان جو پھٹنے کے قریب تھا اب شدّت شرک کی وجہ سے پھٹ گیا ہے۔جو چیز اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہو اس پر اگر ذرا بھی زور لگ جائے گا تو وہ سلامت نہیں رہ سکتی بلکہ پھٹ جاتی ہے۔پس فرماتا ہے اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ وہ جو ہم نے کہا تھا کہ آسمان اور زمین عیسائیوں کے مشرکانہ عقیدہ کی وجہ سے پھٹنے کے قریب ہیں اگر شرک ذرا بھی بڑھا تو وہ پھٹ جائیں گے وہ زمانہ آئندہ آنے والا ہے کہ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا پر یہ لوگ زور دینا شروع کر دیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا کیونکہ ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ جائے گا پس آسمان پھٹ جائے گا سے مراد یہ ہے کہ عیسائیت غالب آجائے گی اور شرک بڑی کثرت سے دنیا میں پھیل جائے گا۔اسلام کی ترقی اور عیسائیت کی ترقی میں ایک فرق چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ جس قسم کی ترقی اورجس قسم کا