تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 32
اور جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا کے معنے ہیں مُضِیْئًا یعنی ہم نے سورج کو ایسابنایا ہےکہ دنیا اس سے روشنی حاصل کرتی ہے (مفردات) پس دوسرے معنے جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا کے یہ ہوئے کہ ہم نے سورج بنایا ہے جس کی ذاتی صفت یہ ہے کہ وہ بہت روشنی دینے والا ہے۔تفسیر۔لفظ وھاج سے سورج کی ذاتی گرمی کی طرف اشارہ سورج کی صفت وھَّاج بتاکر اُس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ سورج کی روشنی اور گرمی ذاتی ہے۔چاند وھَّاج نہیں کہلا سکتا۔اس لئے کہ اس میں اتّقاد نہیں ہے۔آگ کی طرح جلنے والا سورج ہی ہے۔سورج کے اندر خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اس میں ریڈیم موجود ہے کششِ ثقل کے ماتحت جب اس کے ذرّے اندر کی طرف کھنچتے ہیں تو تیز روشنی اور گرمی پیدا ہوتی ہے اور ان ذرّوں کے اندر کی کشش کی وجہ سے اس سے مستقل آگ پیدا ہوتی رہتی ہے۔سورج کی صفت وھَّاج بھی کتنی ظاہر ہے۔کروڑوں کروڑ میل پر سورج ہے یعنی نو کروڑ میل کے قریب دنیا سے اس کا فاصلہ ہے مگراس کی گرمی جب یہاں پہنچتی ہے تو گرمیوں کے موسم میں کئی لوگ اس کو برداشت نہیں کر سکتے اور وہ مر جاتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے لاہور کے متعلق یہ خبر آئی تھی کہ وہاں گرمی کی شدّت کی وجہ سے گھوڑے چلتے چلتے گر کر مر جاتے تھے۔نیز امریکہ سے خبر آئی تھی کہ گرمی کی وجہ سے درجنوں آدمی پاگل ہو ئے اور بلند مکانوں پر سے چھلانگ مارنے پر تیار ہو گئے۔گویا سورج کو اللہ تعالیٰ نے وھَّاج بنایا ہے یعنی دور دور تک اس کی گرمی پہنچتی ہے۔لُغت میں اَلْوَھَجُ مِنَ النَّارِ والشَّمْسِ کے معنوں میں لکھا ہے کہ حَرُّھُمَامِنْ بَعِیْدٍیعنی سورج یا آگ کی گرمی جو بہت دور سے محسوس ہوتی ہو۔گویا سِرَاجًا وَّھَّاجًا میں دو اشارے کئے گئے ہیں۔اوّل یہ کہ سورج کی روشنی اور گرمی ذاتی ہے۔دوسرےؔیہ کہ اس کی گرمی بہت دور سے محسوس ہوتی ہے۔سورج کے جہاں اَور بہت سے فوائد ہیں وہاںاُس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ سورج کی روشنی اور اس کی تپش سے زمین کے اندر روئیدگی کا مادہ پیدا ہوتا ہے چنانچہ ہل چلانے سے محض یہ غرض نہیں ہوتی کہ زمین کو نرم کر دیا جائے بلکہ آج کل جو نئے حل بنائے گئے ہیں وہ ایسی طرز پر بنائے گئے ہیں کہ زمین کے نچلے حصہ کو اُکھاڑ کر باہر پھینک دیتے ہیں یعنی وہ ہل زمین کو صرف نرم ہی نہیں کرتے بلکہ اُوپر کی زمین کو نیچے اور نیچے کی زمین کو اُوپر کر دیتے ہیں اور اس کی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ زمین میں اگانے والے بعض مادے ایسے ہوتے ہیں جن کو فصل کھا جاتی ہے اور اگر پھر اُسے اُٹھا کر سورج کے سامنے نہ کیا جائے تو آئندہ فصل ناقص پیدا ہونے لگتی ہے لیکن جب نچلے حصہ کو اُلٹا کر اُوپر کر دیا جائے تو سورج کی شعائوں سے طاقت حاصل کر کے زمین کے اس نقص کی کمی پوری ہو جاتی ہے غرض سور ج کا تعلق