تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 354
دلیل بہت نازک ہے اور جس طرح چٹانوں میں سے جہاز کو حفاظت سے گزارنا پڑتا ہے اسی طرح اس دلیل کے متعلق یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں کوئی شخص دھوکا نہ کھا جائے اور وہ اپنے ایمان کو برباد نہ کر لے۔انبیاء کی جماعتوں کی تین صفات درحقیقت اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ دلیل اس وقت مکمل ہوتی ہے جب تین باتیں اس میں پائی جائیں۔بغیر ان تین پہلوئوں کے یہ دلیل کسی مدعی کی طرف سے اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش نہیں کی جا سکتی۔اوّلؔ اُس کی جماعت میں تقویٰ و طہارت اور نیکی کا ایک معیار ہونا چاہیے۔خالی چند آدمیوں کا ساتھ مل جانا یا دعویٰ پر ایمان لے آنا کسی مدعی کی صداقت کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔صداقت کے ثبوت کے لئے ضروری ہے کی تقویٰ و طہارت اور نیکی کا معیار پیش کیا جائے جس سے پتہ لگے کہ اس مدعی پر ایمان لانے والوں کا خدا سے تعلق ہو گیا ہے۔یہ تو لوگ مان سکتے ہیں کہ ایک شخص کو نیکی کا خیال تھا اور اس کے دل میں یہ احساس تھا کہ میں ترقی کروں مگر ایک دن اس کا دماغ خراب ہو گیا لیکن یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اُس سے جو شخص بھی جُڑتا جائے اُس کی زندگی میں ایک تغیر پیدا ہوتا چلا جائے اور نیکی اور تقویٰ اس کے قلب میں سرائت کر جائے۔پس کسی مدعی کو ماننے والوں کی نیکی اور تقویٰ کا معیار ایسا بلند ہو نا چاہیے اور اُن کے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت اور بنی نوع انسان کے لئے قربانی اور ایثار کا اس قدرمادہ ہونا چاہیے کہ اسے دیکھ کر انسان خود بخود کہہ اُٹھے کہ جو لوگ خودایسے ایسے ہیں ان کا مطاع تو بہرحال خدا کا راستباز انسان ہو گا۔جب تک یہ علامت کسی جماعت کے اندر نہ ہو اس وقت تک اس کے شیطانِ رجیم سے الگ ہونے کا کوئی یقینی ثبوت نہیں ہو سکتا۔دوسرےؔ شیطان رجیم کے معنے ہیں ایسا شیطان جو ذلیل ہو کیونکہ جس کو رجم ہوتا ہے وہ لوگوں کی نگاہ میں ذلیل ہو جاتا ہے مگر سچے نبی کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اس کی جماعت بالقوہ اعزاز اپنے اندر رکھتی ہے اور اس کے افراد کے اندر ترقی کی ایسی قابلیتیں پائی جاتی ہیں کہ ہر دیکھنے والااس یقین سے پُر ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ ایک دن دنیا پر غالب آجائیں گے۔جیسے حضرت صالح علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں ذکرآتا ہے کہ انہیں کفار نے یہ کہا کہ یَاصَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَا (ہود:۶۳) اے صالح تجھ پر تو ہماری بڑی امیدیں تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ تُو قوم کو ترقی کی طرف لے جائے گا۔یہ امید تو لوگ رکھتے ہی ہیں دعویٰ کے بعد جب ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اُس وقت اُن کے دماغوں میں ایسی تازگی اور ان کے دلوں میں ایسی ہمت بلند پیداہو جاتی ہے کہ وہ کسی روک کی پروا نہیں کرتے۔مگر اس ہمت بلند سے مراد خیالی پلائو پکانا نہیں۔جیسا کہ بعض مدعیوں نے کہہ دیا کہ دنیا کی