تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 348
لئے جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میںاور کسی کے پاس اتنی دولت نہ ہو گی۔اور اگر آپ حکومت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ ماننے کے لئے تیار ہیں۔مگر ہمارے بُتوںکو بُرا بھلا نہ کہا جائے(السیرة النبویة لابن ہشام زیر عنوان قول عتبة بن ربیعة فی امررسول اللہ )۔تو مکّہ والے سمجھتے تھے کہ یہ سب پیشگوئیاں اس لئے کی جاتی ہیں کہ حکومت حاصل کرنے کی خواہش دل میں پائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ خیال کرتے ہو کہ اس نے اپنے ذی قوۃ ہونے کے متعلق اس لئے خبریں دینی شروع کر دی ہیں کہ یہ بادشاہ بننا چاہتا ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ بادشاہ ہو گا مگر اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق نہیں ہو گا بلکہ جب یہ بادشاہ ہو گا تو تم دیکھو گے کہ یہ تقویٰ میں پہلے سے بھی بڑھ جائے گا۔اور جو شخص بادشاہت کے بعد نیکی اور تقویٰ میں پہلے سے بھی بڑھ جائے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وُہ حکومت کی ذاتی طور پر خواہش رکھتا تھا۔بلکہ اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ خدا نے خود اس مقام پر اسے کھڑا کیا ہے۔فرماتا ہے ہم بھی جب محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو بادشاہت دیںگے تو وہ غریب پرور ہو گا۔منکسر المزاج ہو گا۔وہ خدمت خلق کرنے والا ہو گا۔وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والا ہو گا۔گویا بادشاہت اس کی نماز کو بڑھا دے گی۔اس کے روزہ کو ترقی دے گی۔اس کے صدقہ اور اس کے حج اور اس کی دوسری نیکیوں میں اضافہ کر دے گی۔پس ذِیْ قُوَّۃٍ کے ساتھ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ رکھ کر دونوں کا جوڑ بتا دیا۔لیکن ذِیْ قُوَّۃٍ میں ایک خوبی تھی اور ایک نقص تھا۔خوبی تو یہ تھی کہ جو شخص ذی قوۃ ہو وہ دوسروں پر غالب آجاتا ہے اور نقص یہ ہوتا ہے کہ طاقت حاصل کرنے کے بعد انسان دوسروں کے حقوق کو دلیری سے دبا لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے رسول میں یہ بات نہیں دیکھو گے۔اس کی ذی قوّۃ والی حالت اسے مغرور نہیں کرے گی۔بلکہ وہ اسے عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ بنا دے گی۔اس کی بادشاہت اسے نیکیوں میں اَور بڑھا کر اسے خدا تعالیٰ کا اور بھی مقرب بنا دے گی۔اس کا تقویٰ میں بڑھنا اس کا دین میںترقی کرنا اس کا لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھنا سب باتیں اس کا ثبوت ہوں گی کہ اس کی بادشاہت دنیوی بادشاہت نہیں۔اور اسکی بادشاہت اسے دین سے بے بہرہ کرنے کا موجب نہیں بلکہ اسے تقویٰ اور طہارت اور عرفان میں ترقی دینے کا موجب ہے۔مطاع کے ساتھ امین کا لفظ لانے میں حکمت پھر فرماتا ہے مَطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ دو متضاد باتیں لے آیا ہے۔اول مُطَاع اور پھر ساتھ ہی اَمِیْن۔مُطَاع کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ سب لوگ اس کی باتیں ماننے پر مجبور ہوں گے۔مگر فرمایا گو یہ لوگوں کا مطاع ہو گا لیکن ساتھ ہی اَمِیْن بھی ہو گا۔جو شخص مطاع ہو جاتا ہے اس کے اندر بعض دفعہ غرور اور کبر پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔کوئی شخص میرے