تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 31

گئی ہے۔تمہارے اندر شوق پایا جاتا ہے کہ تم نیکی میں ترقی کرو۔تمہارے اندر خواہش پائی جاتی ہے کہ تم اعلیٰ درجہ کے روحانی مدارج حاصل کرو۔کیا یہ شوق اور خواہش بلا وجہ ہے اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو تمہاری ادنیٰ خواہشیں تھیں اُن کو پورا کرنے کے سامان تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیئے مگر جو اعلیٰ درجہ کی روحانی خواہشات تمہارے اندر رکھی گئی تھیں اُن کو پورا کرنے کا خدا نے کوئی سامان پیدا نہیں کیا۔سَبْعًا شِدَادًاسے مراد سات روحانی مدارج اس صورت میں سَبْعًا شِدَادًا سے مراد وہ سات روحانی مدارج ہوں گے جن کا سورۂ مومنون میں ذکر آتا ہے اور جن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب مومن ترقی کرتے کرتے ان ساتوں بلندیوں کو طے کر لیتا ہے۔وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ۰۰۱۴ اور ہم نے ایک چمکتا ہوا سورج (بھی) بنایا ہے۔حل لغات۔سِرَاجٌ سِرَاجٌ کے معنے عام طور پر دیئےؔ کے ہوتے ہیں اور سُرُجٌ اس کی جمع ہے۔سورج کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی خدا کا ایک دیا ہے جو دنیا کو روشن کرنے کے لئے اُس نے بنایا ہے۔وَھَّاجًا کہتے ہیں وَھَجَتِ النَّارُ والشَّمْسُ وَھْجًاوَ وَھَجَانًا: اِتَّقَدَتْ(اقرب) وَھَجَتِ النَّارُ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ آگ بھڑک اٹھی وَھَاج مبالغے کا صیغہ ہے یعنی اَلشَّدِیْدُالْوَھَج (اقرب) سخت گرمی والا یا سخت بھڑکنے والا۔اور وَھَجٌ کے معنے اس گرمی کے بھی ہوتے ہیں جس کو دور سے محسوس کیا جائے گویا وَھَجَ کے معنے ہوئے حَرُّ الشَّمْسِ مِنْ بَعِیْدِ سور ج کی گرمی جو دور سے آرہی ہو۔پس اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ ہم نے ایک سورج بنایا ہے جس کی صفت یہ ہے کہ وہ بڑا گرم ہَے اور اُس کی گرمی دُور دُور تک محسوس ہوتی ہے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وَجَعَلْنَا السِّرَاجَ وَھَّاجًا بلکہ فرمایا وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں تنوین تفخیمکے لے آئی ہے اگر جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا ہوتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ ہم نے سورج کو وَھَّاج بنایا ہے مگر جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا کہہ کر بتا دیا کہ ہم نے ایک عظیم الشان سورج بنایا ہے جس کی صفت ذاتی یہ ہے کہ وہ وَھَّاج ہے۔مفردات میں ہے اَلْوَھَجُ:حُصُوْلُ الضَّوْئِ وَالْحَرِّ مِنَ النَّارِ یعنی آگ سے روشنی حاصل کرنے اور گرمی حاصل کرنے کو وَھَّجٌ کہتے ہیں۔اور جب تَوَھَّجَ الْجَوْھَرُ کہیںتو اس کے معنے ہوتےہیں تَلَاْلَأَ یعنی جو ہر چمک اُٹھا۔