تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 30

لفظ شداد سے نظام سماوی کی تین خصوصیات کی طرف اشارہ دُنیا میں بعض انسان ایسے ہوئے ہیں جن میں عدم استقلال پایا جاتا ہے وہ آج کچھ کہتے ہیں تو کل کچھ کہہ دیتے ہیں ایسے لوگوں کو یکرنگ نہیں کہا جا سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نےجو سَبْعًا شِدَادًا بنائے ہیں اُن میں یہ تینوں خوبیاں پائی جاتی ہیں قَوِیّ کے لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ ان کے اندر ثبات پایا جاتا ہے رَفِیْع کے لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ ان میں وسعت اور بلندی پائی جاتی ہے اور وثیق کے لحاظ سے یہ معنےہوں گے کہ اُن میں یکرنگی پائی جاتی ہے گویابَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاکے یہ معنے ہوئے کہ ہم نے تمہارے اوپر جوسات بلندیاں پیدا کی ہیں وہ یکرنگ بھی ہیں وہ قائم رہنے والی بھی ہیں اور اپنی ذات میں رفعت بھی رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سَبْعًا شِدَادًا کا ذکر کرتے ہوئے یہاں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ تین خصوصیات جو نظام سماوی کی ہم نے بیان کی ہیں یہ بھی اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہیں کہ دُنیا کی پیدائش کا کوئی بہت بڑا مقصد ہے۔جو شخض کہتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کو پیدا کر کے بلا وجہ اور بغیر کسی مقصد کے اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر ایک بہت بڑا، وسیع اور مضبوط نظام بنا دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فعل کو عبث قرار دیتا اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا یہ تمام نظام نعوذ باللہ بالکل لغواور فضول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے اس قانون کو دیکھو کہ وہ نہ ٹوٹنے والا ہے تم اس قانون کی یکرنگی کو دیکھو کہ کس طرح وہ ایک ہی رنگ میں چلتا چلا جا رہا ہے اور پھر اس نظام کی رفعت اور اس کی وسعت کا اندازہ لگاؤ۔سائنسدان اس نظام کو دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں اور باجود بہت بڑی علمی ترقی کے اس نظام کی وسعت کا اندازہ لگانے سے اُن کی عقلیں قاصر ہیں۔تم غور کرو اور سوچو کہ کیا یہ تمام انتظام ایک ایسی دنیا کے لئے اورپھر اس دنیا کی ایک ایسی مخلوق کے لئے کیا جا سکتا تھا جس کی پیدائش کا کوئی مقصد نہ تھا اور جس نے کچھ عرصہ کے بعدفنا ہو کر مٹی ہو جانا تھا۔یہ انتظام خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی پیدائش کا کوئی بہت بڑا مقصد اور مدعا ہے۔نظام سماوی کا ذکر بعث بعد الموت کے ثبوت کے لئے ایک دلیل اگر اس مقصد کو تسلیم نہ کیا جائے تو یہ تمام نظام نعوذ باللہ لغوتسلیم کرنا پڑتا ہے گویا اس رنگ میں نظام سماوی کو اللہ تعالیٰ نے بعث بعد الموت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وسیع اور پُر حکمت نظام جاری کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی پیدائش صر ف اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ چند روز کھائے اور پئے اور فنا ہو جائے بلکہ کسی بہت بڑے مقصد اور مدعا کو پورا کرنے کے لئے اس کی پیدائش ہوئی ہے۔اور اگر یہاں قرآن مجید مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ تم اپنی فطرت کو دیکھو اور غور کرو کہ کھانے پینے کے سوا اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے حصول کی کتنی عظیم الشان تڑپ تمہارے دلوں میں رکھی