تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 345

ہوتا ہے جو پیغام کو صحیح طور پر پہنچانے والا ہو۔دشمن کو الفاظ سے اتنی بحث نہیں ہوتی جتنی اس کے مطالب اور معانی سے بحث ہوتی ہے۔اس لئے رسول کا کام ہوتا ہے کہ الفاظ کے صحیح معانی لوگوں کے سامنے بیان کر دے۔اگر وہ بیان نہ کرے تو خطر ہ ہوتا ہے کہ لوگ دھوکا کھا جائیں۔پس یہاں اصل سوال الفاظ کا نہیں بلکہ مفہوم کا سوال ہے کہ آیا وہ صحیح ہے یا نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا معزز رسول ہے۔اگر اس میں یہ قابلیت نہ ہوتی کہ صحیح پیغام لوگوں تک پہنچاتا تو ہم اسے اتنی بڑی عزت کیوں دیتے۔پس خالی الفاظِ قرآن نہیں۔بلکہ الفاظ قرآن کی تشریح بھی اس میں شامل ہے۔رسولٍ کریمٍ سے مراد جبریل نہیں بلکہ آنحضرت صلعم ہیں یہاں ایک ذوقی لطیفہ بھی ہے مفسرین نے رسول کریم سے جبریل مراد لیا ہے۔(روح المعانی ،الکشافزیر آیت ھذا)مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا ردّ ایک ایسے عجیب طریق سے کیا ہے کہ لطف آجاتا ہے۔مسلمانوں میں عام طور پر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو رسول کریم ہی کہا جاتا ہے۔اور جہاں بھی رسول کریم لکھا ہوا ہو ہر مسلمان کا ذہن فوراً اس طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ اس سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی مراد نہیں۔پس مفسرین نے تو اس سے جبریل مراد لیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اس لفظ کا استعمال رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس قدر کثرت سے کر دیا۔کہ اب رسول کریم کے الفاظ دیکھنے کے بعد کسی کا ذہن جبریل کی طرف منتقل ہی نہیں ہو سکتا۔پھر یہ بات بھی ہے کہ جبریل کا کام تشریح کرنا نہیں بلکہ صاف الفاظ پہنچانا ہے اگر یہاں خالی الفاظ پہنچانے کا ذکر ہوتا تو امین کا لفظ رکھا جاتا کیونکہ الفاظ کو اُن کی اصل صورت میں لوگوں تک پہنچا دینا انسان کی امانت کو ظاہر کرتا ہے۔لیکن یہاں کریم کا لفظ رکھا گیا۔جو عزت پر دلالت کرتا ہے۔اور پیغامبر کی عزت اسی وقت ظاہر ہو سکتی ہے جب وہ پیغام کی صحیح اور درست تشریح لوگوں تک پہنچا دے۔فرماتا ہے اول تو تم دیکھو گے کہ یہ معزز اور برگزیدہ سمجھا جائے گا۔بڑا عقلمند اور سمجھدار قرار پائے گا۔پھر ذِیْ قُوَّۃٍ تم دیکھو گے کہ ایک دن یہ ذی قوۃ ہو جائے گا۔آج یہ تمہیں کمزور نظر آتا ہے۔اور تمہیں اس کی سچائی کا کوئی ثبوت نظر نہیں آتا۔لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیںایک دن یہ بڑا طاقتور ہو جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو یا تو یہ حالت تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوہلاک کرنے کے لئے آپ کے اردگردگھیرے ڈالے جاتے تھے اور یا صلح حدیبیہ کے معًا بعد آپ میں اتنی بڑی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ آپ بڑے بڑے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دیتے اور انہیں تبلیغی خطوط بھجواتے ہیں۔ان کے لئے یہ امر بالکل حیرت کا موجب تھا۔کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا انقلاب واقعہ ہو گیا۔کہ عرب کا وہ اُمّی انسان جسے بالکل حقیر سمجھا جاتا تھا اس قدر طاقت پکڑ گیا ہےکہ وہ ہمیں مخاطب کرتا اور اسلام