تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 343

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر ایمان لانے کے بعد یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ اسلام غالب آئے گا۔لیکن اگر آپ سے تعلق نہ ہو تو اس یقین کے پیدا ہونے کا کوئی ذریعہ ہی نظر نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب بھی اپنے غلبہ کے لئے کوشش کرتے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ عیسائیوں سے صلح ہو جائے۔یا ہندوئوں سے مل کر ان کو حکومت حاصل ہو جائے۔ان کے وہم وگمان میں بھی یہ بات کبھی نہیں آتی۔کہ جو آج اسلام کا حال ہے وہی حال اب عیسائیت کا ہونے والا ہے اور جس طرح آج مسلمان عیسائیوں کے مقابلہ میں بالکل بے بس ہیں اسی طرح عیسائی مسلمانوں کے سامنے بے حیثیت ہو جائیں گے یہ پروگرام صرف ہماری جماعت کا ہی ہے کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے نشانات کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا۔اور ہم ایک ایسے خدا پر ایمان لائے ہیں جو زندہ اور طاقتور خدا ہے۔غرض ہر قدم پر دوسرے قدم کا وہم بھی نہیں آسکتا تھا۔جب یہ سورۃ نازل ہوئی اس وقت اسلام کی ترقی کا خیال ناممکن تھا۔جب اسلام کی ترقی کا دَور آیاتو اس کے تنزل کاخیال ناممکن تھا۔اور جب اس پر تنزل آیاتو اب اس کی ترقی کو ناممکن بتایا جا رہا ہے۔اور چونکہ اس پیشگوئی کا ہر قدم ایسا تھا جس پر لوگوں کو یقین ہی نہیں آسکتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔تم قدم بقدم چلو۔اور پھر دیکھو کہ ہمارے رسول کی باتیں کس طرح پوری ہوتی ہیں آج تم ہمارے رسول کو تحقیر کی نگاہوں سے دیکھتے ہو۔لیکن ہم تمہارے سامنے اس پیشگوئی کا اعلان کرتے ہیں کہ پہلا قدم یہ ہوگا کہ یہ رسول کریم تسلیم کیا جائے گا۔یہ ایک قریب کی پیشگوئی ہے جس کے پورا ہونے پر بعید زمانہ سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کے بھی پُورا ہونے کی بھی امید کی جا سکتی ہے۔اِس وقت یہ تمہیں غیر معزز نظر آرہا ہے اور تم اسے اپنے رحم پر سمجھتے ہولیکن عنقریب تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کا رسول کریم ہونا ثابت ہو جائے گا۔ا ور جب یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ اگر ایک ناممکن بات ہو گئی ہے تو دوسری ناممکن باتیں بھی وقوع میں آجائیں گی۔یہاں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس سے یہ نیجہ نکلتا ہے قرآن خدا کا کلام نہیں بلکہ بندے کا کلام ہے۔مگر یہ اعتراض کلام کے طریق کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں پیدا ہو اہے جب کوئی شخص ہم سے آکر بات کرتا ہے تو ہماری اس سے دو بحثیں ہوتی ہیں۔اول یہ کہ وہ جو کچھ کہتا ہے آیا لفظاً لفظاً درست ہے یا نہیں۔دوم بعض دفعہ الفاظ کا سوال نہیں ہوتا۔صرف اتنا دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا اس نے پیغام کا مفہوم درست طورپر ادا کیا ہے یا نہیں۔یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔اور ان کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے دونوں کا آپس میں فرق بھی بہت بڑا ہے۔مثلاً ایک شخص ہمارے پاس آکر کہتا ہے کہ مجھے فلاں شخص نے بتایا ہے کہ تم کو