تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 342
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍۙ۰۰۱۹ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ یقیناً وہ ایک بزرگ رسول کا کلام ہے۔(جو) قوت والا اور صاحب عرش کے حضور بڑا درجہ رکھنے والا (ہے) مَكِيْنٍۙ۰۰۲۰مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍؕ۰۰۲۱ (جو) مطاع (بھی) ہے (اور) اس کے ساتھ امین بھی۔حَلّ لُغَات۔مَکِیْنٌ مَکِیْنٌ مَکُنَ سے ہے۔اور مَکُنَ فُلَانٌ عِنْدَ السُّلْطَان کے معنے ہوتے ہیں عَظُمَ عِنْدَہُ وَارْتَفَعَ وَصَارَذَا مَنْزِلَۃٍ کہ فلاں شخص کا رتبہ بادشاہ کے ہاں بڑھ گیا۔اور بادشاہ کے حضور مقرب اور معزز ہو گیا (اقرب) پس مَکِیْنٌ کے معنے ہوں گے بادشاہ کے ہاں معزز مقرب اور رتبہ رکھنے والا۔تفسیر۔آخری زمانہ میں اسلام کی ترقی کی پیشگوئی پر تین اعتراضات اور ان کے جوابات اسلام کی ترقی اور اس کے تنزل کے متعلق اور آخر میںا سلام کے دوبارہ غلبہ اور عروج کے متعلق ان آیات میں جس تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کو دیکھ کر ایسے شخص کے دل میں جس کے سامنے ابھی ان واقعات میں سے کوئی واقعہ بھی رُونما نہیں ہوا تھا تین اعتراض پیدا ہوتے تھے۔اول یہ کہ آپ اسلام کے تنزل کی خبر دے رہے ہیں۔حالانکہ اس تنزل کی خبر کے معنی ہی کیا ہیں۔اسلام کی تو دنیا میں کہیں بھی ترقی نظر نہیں آتی۔اور جب آپ کے مذہب کا دنیا میں کہیں نام ہی نہیںاور نہ لوگ کثرت سے اس میں شامل ہیں تو اس کے تنزل کی خبر دینے کے کیا معنی ہیں۔(۲)پھر جب اسلام ترقی کر گیا اور مسلمانوں کو حکومتیں حاصل ہو گئیں۔اس وقت اگر ان سے کوئی پوچھتا کہ کیا تمہارابھی کبھی تنزل ہو گا۔تو وہ سب اس کو ناممکن بتاتے۔اور کہتے کہ اسلام کی شان وشوکت کو کون توڑ سکتا ہے۔بنو امیہ اور بنو عباس کے کیا وہم وگمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ وُہ عیسائی جو ان کی ماتحتی میں اپنی زندگی کے دن بسر کر تےتھے کسی دن غالب آجائیں گے اور اس قدر طاقت حاصل کر لیں گے کہ مسلمان اگر سارے مل کر بھی شور مچائیں گے تو وُہ اُس آواز کو نہیں سُنیں گے۔گویا جس طرح ابتدا ء اسلام میں لوگوں کے لئے یہ بات ماننی ناممکن تھی کہ اسلام کسی زمانہ میں ترقی کر جائے گا۔اسی طرح اسلام کے دَور ترقی میں لوگوں کے لئے یہ بات ماننی مشکل تھی کہ اسلام کسی وقت گر جائے گا (۳)پھر جب اسلام کا تنزّل ہوا تو ایسا ہوا کہ اب مسلمانوں کو لاکھ سمجھائو کہ وُہ پھر ترقی کر جائیں گے ان کی سمجھ میں ہی یہ بات نہیں آتی کہ اتنے عظیم الشان تنزل کے بعد وُہ کس طرح ترقی کر سکیں گے۔