تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 341

آنا تنزّل کے دَور کے خاتمہ اور ترقی کے نئے دَور کے ظہور پر دلالت کرتا ہے۔اور اسی طرف اس آیت میںاشارہ ہے۔اسلام کے اس دَور تنزل پر اللہ تعالیٰ خاموش نہ رہے گا۔بلکہ اسے دُور کرنے کے سامان پیدا کرے گا۔اور اس وقت صبح کا ستارہ اس کی طرف سے طلوع ہو گا۔یعنی وقت کا مصلح اور امام جو ہر تاریک رات کے بعد صبح کے ستارہ کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔اس وقت ظاہر ہو گا۔جب ظلمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔اور انسان روشنی کے ظہور سے مایوس ہو جاتا ہے۔اس وقت اگر روشنی کے ہلکے سے آثار نمودار ہوں تو وہ نظارہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ایک انسان بظاہر مرا ہوا نظر آتا ہے۔لیکن دراصل ابھی زندہ ہوتا ہے۔اس وقت جب اس کے مونہہ پر پانی کے چھینٹے دئے جاتے ہیں تو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد وہ ایک ہلکی سی سُبکی لیتا ہے جس پر گھر والے خُوش ہو جاتے ہیں کہ یہ مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔تَنَفَّسَ الصُّبْحُ میں اسلام کی نازک حالت کا نقشہ اسی طرح فرماتا ہے وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ۔اس وقت ایسا تاریکی کا زمانہ ہو گا کہ ہر شخص کہے گا اسلام اب مر چکا۔اس کی زندگی کے کوئی آثار باقی نہیں رہے۔کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اسلام کےمردہ کوچھوڑ کر چلے جائیں گے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بیٹھ کر رونے لگ جائیں گے۔مگر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے کام میں لگے رہیں گے اور وُہ اس کے مونہہ پر چھینٹے دیتے چلے جائیں گے۔یہاں تک اسلام ذرا سا سانس لے گا۔اس وقت سب کہیں گے کہ لو اسلام زندہ ہو گیا۔پس فرماتا ہے وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ہم شہادت کے طور پر صبح کو پیش کرتے ہیں جب وہ کوشش سے ایک سانس لے گی۔تَنَفَّسَ الصُّبْحُ کے معنے ہوتے تَبَلَّجَ اَیْ اَشْرَقَ وَاَنَارَ یعنی روشن ہو گئی یا اس نے روشن کر دیا۔اس مفہوم کو اور طرح بھی ادا کیا جا سکتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے الفاظ ایسے رکھے ہیں جو مایوسی کی حالت سے تعلق رکھتے ہیں۔اور بتاتے ہیں کہ اسلام کی ترقی اس وقت ناممکن خیال کی جاتی ہو گی۔بہرحال فرماتا ہے وقت آئے گا جب رات دُور ہو جائے گی۔اور صبح کوشش سے ایک سانس لے گی جس پر مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو جائیں گے۔اور ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو جائے گاکہ اسلام اب ضرور غالب آکر رہے گا اور خدام اسلام جیت جائیں گے۔