تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 338

سے ہوتا ہے لیکن قومی محاسبہ ایسی چیز ہے جو سب کو نظر آجاتی ہے کیونکہ اس کا تعلق تمام قوم کے ساتھ ہوتا ہے چنانچہ زلازل اور جنگوں کی کثرت سے اس قومی محاسبہ کے دن کا اب اظہار ہو رہا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زلازل سے زمین اس طرح ہلائی جائے گی کہ انسان پکار اٹھے گا مَالَھَا (سورۂ زلزال) زمین کو کیا ہو گیا ہے کہ عذاب پر عذاب اور تباہی پر تباہی آتی جا رہی ہے۔چنانچہ اب عام طور پر یہی احساس لوگوں کے قلوب میں پیدا ہو رہا ہے کہ یہ خدائی عذاب ہے جو دنیا پر مسلّط ہے اور اسی کی طرف سے اِن زلازل اور جنگوں اور وبائوں کے ذریعہ دنیا میں تغیر پیدا کیا جا رہا ہے پس فرماتا ہے ایک دن آئے گا جب اِن زلازل اور جنگوں کے نتائج قومی طور پر نکلنے شروع ہو جائیں گے۔اور تقدیر الٰہی دنیا میں خاص طور پر جاری ہو جائے گی۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ۰۰۱۶ پس ایسا نہیں (جو تم خیال کرتے ہو) میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ۰۰۱۷ چلتے چلتے پیچھے ہٹ جانے والوں کو (جو ساتھ ہی) ناک کی سیدھ چلنے والے (بھی ہیں اور پھر) گھروں میں بیٹھے رہنے والے بھی۔حَلّ لُغَات۔اَلْخُنَّسُ اَلْخُنَّسُ خَانِسٌ کی جمع ہے جو خَنَسَ سے اسم فاعل ہے۔اور خَنَسَ عَنْہُ کے معنے ہوتے ہیں تَاَخَّرَ وَانْقَبَضَ۔اس سے پیچھے ہٹ گیا۔اور خَنَسَ بَیْنَ اَصْحَابِہٖ کے معنی ہوتے ہیں اِسْتَخْفٰی اپنے ساتھیوں میں چھپ گیا۔اور جب خَنَسَ الْقَوْلَ کہیں تو معنے ہوتے ہیں اَسَائَ ہٗ۔اسے بُری بات سے مخاطب کیا (اقرب) گویا خَانِسٌ کے معنے ہوئے جو پیچھے ہٹ جاتا ہے یا مخفی ہو جاتا ہے۔یا بُری باتیں کہنے لگ جاتا ہے تو خُنَّس ہوئے بُری بات کہنے والے۔پیچھے ہٹ جانے والے چھپ جانے والے۔اَلْجَوَارِ اَلْجَوَار اَلْجَارِیَۃُ کی جمع ہے۔جو اَلْجَارِی سے مؤنث کا صیغہ ہے۔اور جَارِیَۃ چلنے والی کو کہتے ہیں۔نیز اس کے معنی ہیں (۱) اَلصَّبِیَّۃُ بچہ (۲) اَلْاَمَۃُ لونڈی (منجد) (۳) اَلشَّمْسُ سورج (۴)اَلسَّفِیْنَۃُ کشتی (۵)اَلْحَیَّۃُ۔اور سانپ کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) پس جَوَارٍ سے مراد لونڈیاں بھی ہو سکتی ہیں۔لڑکیاں بھی ہو سکتی ہیں۔سورج بھی ہو سکتا ہے۔کشتیاں بھی ہو سکتی ہیں۔سانپ بھی ہو سکتا ہے اور پھر سیدھے چلنے والے وجود بھی اس