تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 337
توجہ بھی اُس کی خوشنودی کا مستحق بنا دیتی ہے۔اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ کے دو معنے اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جنت کے حصول کے لئے اس زمانہ کی قربانیاں نسبتاً آسان ہوں گی جہاد بند ہو گااور اس طرح جانی قربانی کے مواقع پیش نہیں آئیںگے صرف مالی قربانی کر کے یا وقت کی قربانی کر کے یا جذ بات و احساسات کی قربانی کر کے وہ جنت کو حاصل کر سکیںگے پہلا زمانہ وہ تھا جب اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ (بخاری کتاب الجہادباب الجنة تحت بارقة السیوف) کا سبق مومنوں کے سامنے دُہرایا جاتا تھا مگر اِس زمانہ میں تلوار کا جہاد اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت بند ہے اس لئے اب وہ تکالیف برداشت نہیں کرنی پڑتیں جو پہلے زمانوں میں برداشت کرنی پڑتی تھیں اب جہاد بالسیف کے بغیر ہی مالی قربانیوں میں حصہ لے کر جنت مل سکتی ہے۔اس آیت کے ایک معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مامور من اللہ کی بیعت کی وجہ سے جنت کا پانا اُن سے پہلے لوگوں کی نسبت آسان ہو جائے گا جنہوں نے کسی مامور کا زمانہ نہیں دیکھا۔آج سے سوسال پہلے ساری عمر بزرگانِ دین کی صحبت میں گزار کر جو نور حاصل ہوتا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک نکتۂ معرفت سے انسانی قلب میں پیدا ہو جاتا ہے پھر جو نشانات اور معجزات اس وقت ہمارے سامنے ہیں اور جن کے ذریعہ ایک زندہ خدا ہمیںنظر آرہا ہے یہ پہلے کہاں تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے تازہ الہامات ہمارے ایمانوں میں جو تازگی پیدا کرتے ہیں وہ پہلے لوگوں کو کہاں نصیب ہوتی تھی۔پس حق یہی ہے کہ اس زمانہ میں ایک مامور من اللہ کی بعثت اور پھر اُس کی بیعت کی وجہ سے جنت کا حصول پہلے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ آسان ہو گیا ہے اور یہی مامور کے زمانہ کی علامت ہوتی ہے کہ اُس وقت جنت بالکل قریب کر دی جاتی ہے۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ۰۰۱۵ (اُس دن) ہر جان جو کچھ اُس نے حاضر کیا ہے جان لے گی۔تفسیر۔عَلِمَتْ نَفْسٌ سے خدا کی تقدیر خاص کا اجراء فرماتا ہے اُس دن الٰہی تقدیر خاص طور پر جاری ہو گی اور نتائج اعمال خاص طور پر نکلنے شروع ہوں گے مطلب یہ کہ عام زمانہ میں فردی محاسبہ ہوتا ہے لیکن انبیاء کے زمانہ میں قومی محاسبہ ہوتا ہےجیسا کہ آیت وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل :۱۶)سے ظاہر ہے اور قومی محاسبہ بڑا سخت ہوتا ہے فردی محاسبہ نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا تعلق انفرادی طور پر الگ الگ لوگوں