تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 336
تفسیر۔جَھَنَّمَ کے معنے خود آگ کے ہیں۔پس جو پہلے ہی آگ ہے اس کا بھڑکایا جانا اور بھی خطرناک حالت پر دلالت کرتا ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ’’کریلہ اور پھر نیم چڑھا‘‘۔جہنم کے بھڑکائے جانے کے ایک معنے تویہ ہیں کہ اُ س زمانہ میں گناہ کی زیادتی ہو جائے گی کیونکہ جب کوئی مہمان آیا ہوا ہو تو اس کا کھانا پکانے اور ضیافت کرنے کے لئے آگ کو بھڑکایا جاتا ہے۔پس جہنم جن لوگوں کا گھر ہے اور جن کا نُزل واقعہ ہوا ہے جب وہ کثرت سے اُس گھر میں جائیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ اُس کی آگ بھی بھڑکائی جائے گی۔پس اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے اُس زمانہ میں دوزخیوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ میں نبی کے آنے کی پیشگوئی وَاِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْکے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اُس وقت خدا تعالیٰ کا ایک نبی آئے گا جس کی مخالفت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک اُٹھے گا کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل:۱۶)ہم اُس وقت تک لوگوں پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اپنا رسول بھیج کر اُن پر حجت تمام نہ کر لیں۔پس اس آیت میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ اُس وقت خدا تعالیٰ کا ایک مامور آئے گا کیونکہ جب اس کی طرف سےکوئی مامور آتا ہے تو اس کے آنے کے ساتھ جہاں مومنوں کے لئے رحمت کے دروازے کھلتے ہیں وہاں کفار کے لئے عذاب کے دروازے بھی کھول دئے جاتے ہیں۔وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ۰۰۱۴ اور جب جنت کو قریب کر دیا جائے گا۔حَلّ لُغَات۔اُذْلِفْتَ اُذْلِفْتَ اَ زْلَفَ سے مجہول کا مؤنث کا صیغہ ہے اور اَ زْلَفَ کے معنے ہیں قَرَّبَہُ اُس کو قریب کیا (اقرب) پس وَاِذَاالْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ کے معنے ہوں گے جب جنت قریب کی جائے گی۔تفسیر۔یہ اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ کا ایک طبعی نتیجہ ہے جو بیان کیا گیا ہے کیونکہ جب گناہ بڑھ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں رہتی تو اُس وقت جنت بھی لوگوں کے قریب کر دی جاتی ہے اور تھوڑی سی محنت اور تھوڑی سی قربانی سے وہ اُس کو حاصل کرلیتے ہیں۔جس زمانہ میںنیکی کی کثرت ہو جنت کا حصول اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا اُس زمانہ میں جب لوگوں میں عام طور پر بے دینی پائی جاتی ہو۔کیونکہ اُس وقت خدا تعالیٰ کی طرف ادنیٰ