تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 334
پھر نئے حساب کے ذریعہ انہوں نے اپنی تحقیق میں اس قدر ترقی کر لی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے اس سارے عالم کا مرکز دریافت کر لیا ہے جس میں یہ سورج اور چاند وغیرہ ایسے ہی نظر آتے ہیں جیسے ایک چھوٹا سا ذرہ ہوتا ہے وہ کہتے ہیں اس عالم کے اوپر ایک اَور عالم ہے پھر اَور عالم ہے پھر اور عالم ہے اور آخر میں ایک بہت بڑا مرکز ہے جس کے ارد گرد یہ سب سیّارے اور ستارے اور سورج اور چاند وغیرہ چکّر کھا رہے ہیں۔اُن کو اپنی اس تحقیق پر اس قدر ناز ہے کہ ماہرینِ حساب یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خدائی کا راز دریافت کر لیا ہے گویا وہ مرکز اُن کے نزدیک خدا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں سے اللہ تعالیٰ ساری دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔اسی طرح پیدائشِ عالم کے متعلق پُرانے اور موجودہ نظریہ میں بہت بڑا فرق پیدا ہوگیا ہے اب ایسے آلے نکل آئے ہیں جن سے شعائوں کو پھاڑ کر بتا دیا جاتا ہے کہ وہ شعائیں جن ستاروں سے نکل رہی ہیں اُن میں کون کون سا مادّہ ہے کیونکہ ہر شعاع جو کسی ستارہ سے لوٹتی ہے اس ستارہ کو ساخت دینے والی دھاتوں کا اثر اپنے اندر رکھتی ہے۔پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ تمام روشنیاںایک ہی قسم کی ہیں مگر اب ماہرین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہر روشنی الگ قسم کی ہوتی ہے پلاٹینم سے نکلنے والی روشنی کو اگر پھاڑا جائے تو وہ بتا دے گی کہ وہ پلاٹینم میںسے نکلی ہے۔اور اگر ریڈیم سے نکلی ہوئی روشنی کو دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ ریڈیم کی ہے۔غرض ہر روشنی کو پھاڑ کر وہ بتا دیتے ہیںکہ اس کے ساتھ کن کن چیزوں کا تعلق ہے۔اس علمی ترقی کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ سائنس دان یہاں بیٹھے ہوئے سورج کی روشنی لیں گے اور اس کا تجزیہ کر کے بتا دیں گے کہ سورج میں فلاں فلاں عناصر ہیں۔مریخ کی روشنی پھاڑ کر بتا دیں گے کہ اس میں فلاں فلاں عناصر ہیں۔غرض علمِ ہیئت میں ایسے عظیم الشان تغیّرات ہوئے ہیں کہ اُن کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔پھر ایک اور انکشاف بھی ہوا ہے جو اسلام کی بہت بڑی تائید کرتا ہے۔پہلے تمام یورپ پر ڈارون تھیوری کا غلبہ تھا۔مگر اب کہا جاتا ہے کہ اس دنیا کی کل اڑتالیس ہزار سال عمر ہے اور سورج جوں جوں اپنے مرکز کے قریب آتا جاتا ہے اس کی گرمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہاں تک کہ جب اڑتالیس ہزار سال پورے ہو جائیں گے تو سورج کی گرمی اتنی شدید ہو جائے گی کہ زمین اور اردگرد کے تمام سیّاروں کو پگھلا کر رکھ دے گی۔یہ وہی بات ہے جس کا حدیثوں میں ذکر آتا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو سورج بالکل قریب آجائے گا اور اُس کی گرمی زمین کو تباہ کر دے گی (ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب ما جاء فی شان الحساب والقصاص)غرض علمِ ہیئت کے ذریعہ آسمان کی کھال اُدھیڑ دی گئی ہے اور اس علم میں ایسی عظیم الشان ترقی ہوئی ہے کہ جس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔آسمانی کتب کی تحقیقات تیسرےؔ معنے اس کے یہ ہیں کہ سماء سے مراد سماوی علوم لئے جائیں۔اس صورت