تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 329

تھا کہ لوگوں سے کہہ دوں کہ جب عورت بچے کو دُودھ پلا رہی ہو تو مرد اُس سے صحبت نہ کیا کرے فَنَظَرْتُ فِی الرُّوْمِ وَفَارِسَ فَاِذَاھُمْ یَغَیْلُوْنَ اَوْلَادَھُمْ وَلَا یَضُرُّ اَوْلَادَھُمْ ذَالِکَ شَیْئًا۔لیکن پھر میں نے روم اور فارس کو دیکھا کہ وہاں کے رہنے والے برابر یہ کام کرتے ہیں مگر ان کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا اس لئے میں نے اس ممانعت کا خیال ترک کر دیا ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنِ الْعَزْلِ۔پھر انہوں نے آپ سے عزل کے متعلق پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کا کیا حکم ہے فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ذَالِکَ الْوَأدُ الْخَفِیُّ۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھی ایک وأد خفی ہے۔(مسلم کتاب النکاح باب جواز الغیلۃ و ھی وطی المرضع ) یہ روایت مسلم نے سعید بن ابی ایوب سے اور مالک بن انس سے بھی نقل کی ہے اور ابو دائود اور الترمذی اور النسائی نے یہ روایت ابی الاسود سے روایت کی ہے۔اس روایت سے بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب عزل بھی وأدخفی ہے تو یہ فعل بھی کسی سزا کا مستحق ہونا چاہیے لیکن یہ بات روایت سے درست معلوم نہیں ہوتی۔مسئلہ عز ل اور اس کا جواز و عدم جواز اوّل تو اگر عزل منع ہے اس وجہ سے کہ عزل وأدخفی ہے تو پھر حاملہ سے جماع بھی منع ہونا چاہیے مگر حمل کے ایام میں جماع کی حرمت کہیں سے ثابت نہیں حالانکہ وہ وأ دقطعی اور یقینی ہے۔دوسرےؔ عزل کے جائز ہونے کے متعلق بھی احادیث آتی ہیں مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا بے شک کرو جس متنفّس کو خدا نے پیدا کرنا ہے وہ تو اُسے بہرحال پیدا کر کے رہے گا (بخاری کتاب القدر باب کان امراللہ قدراً مقدوراً )پس چونکہ عزل کا جواز بعض دوسری احادیث سے ثابت ہے اس لئے گویہ حدیث بڑے بلند پایہ کی ہے مگر میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ بلاضرورت ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔اگر کوئی شخص بلاضرورت ایسا کرتا ہے تو وہ وأدخفی سے کام لیتا ہے یعنی وہ شخص جس کی عزل سے غرض نسل انسانی کا انقطاع ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم اور گنہگار ہے ورنہ اور کئی صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن میں عزل ہو سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص کی بیوی بیمار ہے۔وہ دوسری شادی کی توفیق نہیں رکھتا لیکن خود اُس میں خدا نے قوائے شہوانیہ پیدا کئے ہیں۔دوسری طرف ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گیا تو اس کی جان کا خطرہ ہو گا ایسی حالت میں نہ صرف عزل جائز ہو گا بلکہ اگر حمل ہو جائے تو اُس کا نکلوا دینا بھی جائز ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے میں نے خود سنا ہے کہ ایسی حالت میں اگر کوئی عورت حمل نہیں نکلواتی اور وہ مر جاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خودکشی کرنے والی ہے۔آپ نے فرمایا ایسی حالت میں ضروری ہے کہ بچہ کو نکلوا دیا جائے۔کیوں کہ بچہ کے متعلق تو ہمیںکچھ علم نہیں کہ اُس نے کیسا بننا ہے مگر ایک زندہ وجود ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اُ س کی جان کی حفاظت اس