تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 328

صلاحیتیں اُن میں ہوتی ہیں اس لئے ان کو جنت میں وہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا جو دوسروں کو حاصل ہو گا۔پس جو بالغ ہوں گے یا بڑی عمر کے ہوں گے وہ تو جنت میں استحقاق کے طور پر جائیں گے مگر جو بچے چھوٹی عمر میں فوت ہو چکے ہوں گے وہ اگر بغیر کسی مزید امتحان کے جنت میں گئے تو صرف اپنے ماں باپ کا دل خوش کرنے کے لئے وہاں رکھے جائیں گے اور ان کی دلجمعی کا سامان ہوں گے خواہ کسی شکل اور کسی درجہء روحانیت میں اُن کو داخل کیا جائے یہ ایک الٰہی راز ہے اس میں پڑنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔پہلے میرا ذہن اِدھر نہیں جاتا تھا اور میں حیران ہوتا تھا کہ وہاں بچوںکو خدم کے طور پر کیوں رکھا جائے گا مگر اِن آیات پر غور کرنے سے مجھے معلوم ہوا کہ خواہ ان کا نام خدم رکھ لو۔خواہ کھلونا کہہ لو بہرحال چونکہ پورے طور پر اُن کی ارواح کا ارتقاء نہیں ہوا ہو گا اس لئے گو وہ مومنوں کے ساتھ ہی رکھے جائیں گے مگر اُن کی کیفیت جُداگا نہ ہو گی۔اس جگہ ایک اور بات یاد رکھنے والی ہے کہ ضمنی طور پر یہاں سے ایک اور مسئلہ کا بھی استنباط ہوتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مسلمان ہو جائے اس کے کفر کے سارے گناہ مٹ جاتے ہیں یہ ایک عام مشہور مسئلہ ہے اور احادیث سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے مگر اس مسئلہ میں کچھ ترمیم کی ضرورت ہے خواہ وہ ترمیم اصلاحی نہ ہو بلکہ تکمیل کی ہو۔حدیثوں میںآتا ہے عبدالرزاق نے نعمان بن البشیر سے اور انہوں نے عمر بن الخطاب سے نقل کیا ہے کہ قیس ابن عاصم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں نے کچھ لڑکیاں جاہلیت میں زندہ دفن کی ہیں آپ نے فرمایا ہر موئودہ کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کر دو۔اُس نے کہا یا رسول اللہ اِنِّیْ صَاحِبُ اِبِلٍ مَیں تو صاحب الابل ہوں غلام کہاں سے لائوں اُونٹوں کے متعلق فرمائیں تو اُن کو نحر کرنے کے لئے تیار ہوں آپ نے فرمایا فَا نْحَرْ عَنْ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُنَّ بُدْنَۃً (ابن کثیرسورۃ التکویر زیر آیت ھذا) کہ ہر ایک کے بدلہ میں ایک اونٹ قربان کر دو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے گناہ جو انسان کی فطرت پر بھاری ہوں باوجود اُن کی بخشش کے اور باوجود اسلام نصیب ہو جانے اور توبہ قبول ہو جانے کے پھر بھی اگر انسان کفارہ ادا کرتا رہے تو تکمیل روحانیت کے لئے یہ بات بہت مفید ہوتی ہے۔مسئلہ عزل کے متعلق بعض احادیث اس جگہ ایک اور حدیث بھی نقل کی جاتی ہے جس پر روشنی ڈالنی ضروری ہے۔امام احمد روایت کرتے ہیں کہ جذامہ بنت وہب اُخت عکاشہ نے بیان کیا قَالَتْ حَضَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَاسٍ وَھُوَ یَقُوْلُ لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اَنْھٰی عَنِ الْغَیْلَۃِ کہ میں ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئی کچھ اور لوگ بھی ساتھ تھے آپ اُس وقت فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا