تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 327
کی دو آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ نعماء جنت سے پوری طرح متمتع ہونے والے وجود صرف بالغ ہی ہوں گے۔دوسرے صرف دلجمعی کے لئے جنتیوں کے پاس رکھے جائیں گے پہلے میں سمجھتا تھا کہ جس طرح ماں باپ جنت میں جائیں گے اسی طرح بچے جنت میں رکھے جائیںگے مگر اب مجھے قرآن پر غور کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ گو چھوٹے بچے بھی جنت میں رکھے جائیں گے مگر ان کی حیثیت میں کسی قدر فرق ہو گا۔اِن دو آیتوں میں سے جن سے مومنوں کے بچوں کے جنت میں مختلف حیثیت میں جانے کا پتہ ملتا ہے پہلی یہ ہے وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ (الطور:۲۲) یعنی جو لوگ ایمان لے آئے اور اُن کی اولاد ایمان میں اُن کی تابع ہو چکی ہے ان کی اولاد کو بھی ہم اُن سے ملا دیں گے اور اُن کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے۔اسی طرح فرماتا ہے جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۠ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّيّٰتِهِمْ (الرعد :۲۴)یعنی ہمیشگی کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور اُن کے باپ دادا میں سے جنہوں نے اعمال صالحہ کئے تھے وہ بھی ان باغات میں داخل ہوںگے اور ان کی بیبیاں اور ان کی اولاد جو نیک ہوں گے وہ بھی وہاں ہوں گے۔اسی طرح ملائکہ کی دعا ہے رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ ا۟لَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّيّٰتِهِمْ(المومن :۹) یعنی اے ہمارے رب انہیں ہمیشہ رہنے کے باغوں میں داخل کر جن کے دینے کا تُو نے وعدہ کیا ہے اور اُن کے باپ دادا اور اُن کی بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں اُن کو بھی جنت میں داخل فرما۔اِن ساری جگہوں میں مَنْ صَلَحَ یا بِاِیْمَانٍ وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں اور دوسروں کا جنت میں جانا اپنے اندر کچھ فرق ضرور رکھتا ہے۔چونکہ اُن کی ارواح کوپورا ارتقاء حاصل نہیں ہو گا اس لئے ان کا جنت میں جانا بطوراستحقاق نہیں ہو گا بلکہ اپنے ماں باپ کی خوشی کے لئے ہو گا اس لئے مفسرین کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ اُن بچوں کو وہاں خدم کے طور پر رکھا جائے گا لیکن میں ان کا نام خدم نہیں رکھتا بلکہ کھلونا رکھتا ہوں۔میرے نزدیک ان کی ارواح ایسی ترقی یافتہ نہیں ہوں گی کہ وہ جنت کی لذتوں سے پوری طرح متمتع ہو سکیں۔دوسرے جنتیوں کے متعلق تو آتا ہے کہ ملائکہ جنت کے ہر دروازہ سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ(الرعد:۲۵) کہ تم پر سلامتی ہو اس کے بدلے میں جو دنیا میں تم صبر کرتے رہے ہو یہ سب انعام اُسی کا صلہ ہے۔پس دیکھو دار آخرت کا بدلہ کیسا اچھا ہے۔مگر ملائکہ کایہ سلام انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو مَنْ اٰمَنَ میں داخل ہوں یا مَنْ صَلَحَ میں داخل ہوں۔پس چونکہ ان آیات میں اِتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اور مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِ ھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَ ذُرِّیَّاتِھِمْ وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں۔اور چھوٹے بچے نہ ایمان لاتے ہیں نہ اعلیٰ کی