تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 325
جائیں گے اور عقل بھی یہی کہتی ہے کہ حدیثِ معراج بڑے پایہ کی ہے اور بڑے تواتر سے آتی ہے اور مختلف اَسناد سے آتی ہے اور گو اس میں بعض مقامات پر اضطراب بھی پایا جاتا ہے لیکن اصولی طور پر حدیثِ معراج کی طرف محدثین کی بڑی نظر پڑی ہے۔پس حدیثِ معراج اس بات کی دلیل ہے کہ مومنوں کے بچے جنت میں رکھے جائیں گے۔دوسرے عقلی طورپر ہم دیکھتے ہیںکہ مومن کی تسلّی اور اسکی خوشی کے لئے جنت میں اُس کے بچوں کا ہونا نہایت ضرورری ہے اللہ تعالیٰ جنّتیوں کے متعلق فرماتا ہے لَھُمْ فِیْھَا مَا یَشَآءُ وْنَ (النحل :۳۲) وُہ اُس میں جو کچھ چاہیں گے اُن کو مل جائے گا اور جب یہ صورت ہے تو ایک ماں تو سب سے پہلے یہ خواہش کرے گی کہ میرا بچہ مجھے واپس دے دو۔ہم نے دیکھا ہے جب کوئی عورت مرنے لگتی ہے تو وہ اُس وقت کہتی ہے کہ میرا بچہ جو مر چکا ہے میں اب اُس سے جا کر ملوں گی۔پس عقل بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ عورتوں کی تسلّی اور ان کے اطمینان کے لئے اُن کے بچے اُنہیں ملنے چاہئیں چاہے وہ کسی صورت میں ملیں۔یہ بحث نہیں وہ خواہ خدم کے طور پر ملیں یا کھلونے کے طور پر، بہرحال ملنے چاہئیں سوائے اس کے جو دوزخی ہو اور خُدا اوراس کے رسول کا مخالف ہوکیونکہ ایسے لڑکے سے مومن اپنے تعلق کوکاٹ دے گا اور اس کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آئے گا کہ وُہ اس سے ملے۔بہرحال اگر کوئی لڑکا بالغ ہے اور پھر کافر اور مشرک ہے تب تو کوئی اعتراض نہیں اللہ تعالیٰ اُسے جہاں چاہے رکھے ایک مومن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور نہ اُسے کوئی دُکھ ہو سکتا ہے کیونکہ اُس کی محبت وہ اپنے دل سے نکال دیتا ہے لیکن جو بچہ بالغ نہیں جو معصومیت کی حالت میں فوت ہوا ہے۔عقل اور فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اُسے اپنے ماں باپ کے پاس جنت میں رکھا جائے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جنت اسی صورت میں جنت ہو سکتی ہے جب ماں کے پاس اس کے بچے موجود ہوں۔اس عقلی تائید کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حدیثِ معراج عین فطرت کے مطابق ہے۔باقی رہے کفار و مشرکین کے بچے سو گو بعض حدیثیں اس بات کی تائید میں ہیں کہ وہ دوزخ میں جائیں گے لیکن بعض ایسی بھی حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے جیسا کہ حدیثِ معراج میںہی اولادالمشرکین کا بھی ذکر آتا ہے مگر یہ مسئلہ ایسا اہم نہیں۔جہاں تک مومن کی اولاد کا مسئلہ ہے بیشک وہ اہم ہے۔لیکن جہاںتک مشرکوں کی اولاد کا مسئلہ ہے وہ اپنے اندر کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔اگر یہ فیصلہ ہو کہ اولادِ مشرکین کے جنت میں جانےوالی حدیثیں بھی صحیح ہیں اور دوزخ میں جانے والی حدیثیں بھی صحیح ہیںتو رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ (الاعراف:۱۵۷)کے مطابق ہم اُن کے جنت میں جانے والی حدیثوں کو ترجیح دےدیں گے کیونکہ قرآن نے یہ اصول بتا دیا ہے کہ جب دو چیزیں ٹکرا جائیں تو جس میں رحمت کا پہلو زیادہ ہو وہ لے لو۔کیونکہ خدا کی رحمت اُس کے