تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 324

دوسری طرف یہ فرمانا کہ جب تک ہم رسول بھیج کر لوگوں پر اپنی حجت تمام نہ کر لیں ان کو اپنے عذاب میں مبتلا نہیں کرتے بتلا رہا ہے کہ بچے عذاب کے مورد نہیں ہو سکتے کیونکہ نہ انہوں نے کوئی جرم کیا اور نہ ان کی طرف بعثتِ رسول ہوئی۔اسی طرح فرماتا ہے وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى (طٰہٰ :۱۳۵) یعنی اگر ہم قرآن اتارنے سے پہلے کسی عذاب سے ان لوگوں کو ہلاک کر دیتے۔تو بے شک یہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہم تیرے حکم پر چلتے۔اسی مضمون کو ایک اور جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ٞ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(المائدة:۲۰)یعنی اے اہل کتاب جب رسولوں کے آنے میں مدتوں تک ناغہ رہا تو ہمارا رسول تمہارے پاس آیا جو احکام الٰہی تم سے صاف صاف بیان کرتا ہے اور ہم نے یہ رسول اس غرض سے بھیجا کہ مبادا کل کو کہیں تم کہنے لگوکہ ہمارے پاس نہ تو کوئی نجات کی خوشخبری سنانےوالا اور نہ عذاب الٰہی سے ڈرانے والا آیا تو اب تو تم کو اس عذ ر کی بھی گنجائش نہیں رہی۔کیونکہ تمہارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ حجتِ صحیحہ اس بات کو قرار دیتا ہے کہ کسی نبی کی پہلے بعثت ہو اور پھر لوگ یا اُس کی تکذیب کریں اور یا اس پر ایمان لے آئیں۔کیوں کہ فرماتا ہے ہم نے اسی لئے تمہاری طرف نبی بھیجے ہیں تا کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہماری طرف کوئی رسول نہیں آیا تھا۔گویا باوجود اس کے کہ ان میں عقل موجود تھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر ہم تمہاری طرف نبی نہ بھیجتے تو ہم تم کو بری سمجھتے جب بڑی عمر کے آدمی بھی نبی کی بعثت کےبغیر بری سمجھے جا سکتے ہیں تو اُن بچوں کو جو نبی کی حقیقت سمجھنے کے قابل ہی نہیں اور جو احکامِ شریعت کے مکلّف ہی نہیں اُن کو ملزم قرار دینا اور کہنا کہ وہ دوزخ میں جائیں گے یقیناً قرآن کریم کے خلاف ہے۔قرآن کریم نے یہ اصول رکھا ہے کہ جس شخص میں عقل موجود ہے مگر نبی اس کی طرف نہیں آیا وہ بھی مجرم نہیں۔پھر جس میں عقل وفہم کا مادہ بھی نہ ہو وہ کس طرح مجرم قرار دیا جا سکتا ہے؟ بہرحال قرآن ان معنوں کو ردّ کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ عقلمندوں کو بھی نبی کی بعثت کے بغیر قابلِ سرزنش قرار نہیں دیتا تو جن پر رسول کی موجودگی میں بھی حجت نہیں ہو سکتی تھی ان کو کس طرح عذاب مل سکتا ہے۔پس قرآن کریم کی آیات سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ بچے دوزخ میں جائیںگے۔اب رہا یہ سوال کہ اگر بچے مکلّف نہیں ہیں تو پھر مومنوں اور کفار کے بچوں کا کیا حال ہو گا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں تک مومنوں کے بچوں کا سوال ہے حدیث معراج اس کی تائید میں ہے کہ وہ جنت میں