تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 323
موت اطفال)جب تک اِن دونوں حوالوں کو ہم حل نہ کر لیں اُس وقت تک کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکی یہ روایت کہ بعض لوگ جنت کے لئے پیدا کر دیئے گئے ہیں اور بعض لوگ دوزخ کے لئےدرست ہے، تو ہم ایک مومن کے بچہ کے متعلق بھی یہ یقینی طور پرنہیں کہہ سکتے کہ وہ جنّتی ہے یا دوزخی۔اور اس طرح سارا استدلال باطل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں محدثین نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ یہ پہلے کی بات ہو گی۔جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر ابھی انکشاف حقیقت نہیں ہوا تھا جب انکشاف ہو گیا تو آپ نے اپنے عقیدہ کو بدل دیا۔مگر اس میں ایک اور مشکل یہ پیش آجاتی ہے کہ حدیثوں میں ہی ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بچوں کو لے کر ایک جگہ جنت میں بیٹھے ہیں اور آپ نے فرمایا کہ ان بچوں میں مشرکین کے بچے بھی تھے۔یہ واقعہ معراج سے تعلق رکھتا ہے اور معراج کی حدیث ۵ بعد دعویٰ نبوت کی ہے گویا ہجرت سے آٹھ سال پہلے یہ انکشاف آپ پر ہو چکا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکی شادی ہجرت سے ایک سال بعد ہوئی ہے اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نو سال قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ انکشاف ہو چکا تھا اور جب اس کی طرف سے انکشاف ہو چکا تھا تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کس طرح ایسی بات کہہ سکتے تھے جو اس انکشاف کے خلاف ہوتی۔پس یہ جواب بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔بہرحال جہاں تک احادیث کا تعلق ہے وہ ہمیں ایک دوسری سے ٹکراتی ہوئی ملتی ہیں اور جب وہ ایک دوسری سے ٹکراتی ہوئی نظر آتی ہیں تو ہمیں قرآن شریف کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ اس بارہ میں وہ کیا تعلیم پیش کرتا ہے کیونکہ قرآن شریف وہ کلام ہے جو خدا تعالیٰ نے نازل کیا اور جسے بغیر کسی خطرہ کے ہم قبول کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔بے شک حدیثوں میں سے بعض ایسی ہیں جو صحاح میں آئی ہیں اور وہ بڑے پایہ کی ہیںمگر بہرحال حدیثوں میں یا تو خلط ہو گیاہے اور یاپھر و ضاعین نے وضع کی ہیں اس لئے ہم اس مسئلہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے قرآن شریف کی طرف توجہ کرتے ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِۚ (آل عمران:۱۸۳)کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔اور جب وہ ظلم نہیں کرتا تو یہ کس طرح سمجھاجاسکتا ہے کہ وہ بچوں کو بغیر قصور کے دوزخ میں داخل کر دے گا۔وہ شخص جس نے کوئی فعل کیا ہی نہیں اور جو مکلّف ہی نہیں ہوا اس کو سزادینا تو قطعی طور پر ظلم ہے۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل:۱۶)کہ ہم بغیر بعثتِ رسول کے لوگوں کو عذاب نہیں دیا کرتے محدثین نے بھی اس آیت سے استدلال کر کے بچوں کو بری قرار دیا ہے۔پس ایک طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم اپنےبندوں پر ظلم نہیں کرتے اور