تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 321
استدلال کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ان الفاظ میں ابہام سے کام لیا گیا ہے آخری نتیجہ بیان نہیں کیا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے محض یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اگر انہیں تبلیغ پہنچتی تو وہ کیا کرتے یعنی اُس وقت انہوں نےجو جو اعمال کرنے تھے وہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ جانتا ہے کہ اُن کا انجام کیا ہوتا۔پس اس حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اُن کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے بلکہ حدیث اپنے الفاظ کے ذریعہ اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ ان کو موقعہ ملنے پر جو کچھ انہوں نے کرنا تھا اللہ تعالیٰ اُسے جانتا ہے۔امام ابن تیمیہ نے اسی جواب کو ترجیح دی ہے(روح المعانی زیر آیت ھذا)۔اس خیال کی ان احادیث سےبھی تائید ہوتی ہے کہ پاگل، فاترالعقل اور وہ بڈھے جن کے ہوش وحواس ٹھکانے نہیں رہتے اُن کی طرف اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں دوبارہ نبی مبعوث کرے گا(مسند احمد بن حنبل حدیث الاسود بن سریع )۔امام سیوطی نے بھی اسی خیال کو ترجیح دی ہے مگرا س کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک اور خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ بچوں کا حشرتو ہو گا لیکن بچہ چونکہ مکلّف نہیں اس لئے وہ کہتے ہیں مشرکین کے بچے زندہ تو کئے جائیں گے لیکن پھر جانوروں کی طرح مٹی کر دئے جائیں گے۔اس استدلال پر وہ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ والی آیت سے ہی مجبور ہوئے ہیں کیوںکہ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ مَوْئٗ دَۃُ کے بارہ میں سوال کیا جائے گا اور یہ سوال اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُسے زندہ نہ کیا جائے پس وہ اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ بچوں کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اُن کے بارہ میں مجرموں سے دریافت کیا جائے گا کہ انہوں نے ان کو کس قصور کی بناء پر زندہ درگور کیا تھا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک بکری جس نے دوسری بکری کو دنیا میں سینگ مارا ہو گا قیامت کے دن ان کو بھی زندہ کیا جائے گا اور جسے سینگ مارا گیا ہو گا اُسے کہا جائے گا کہ وہ دوسری کو سینگ مارے(مسلم کتاب البر والصلة الآداب۔باب تحریم الظلم)۔پس وہ اس آیت سے یہ بات ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ بچوں کا بھی حشر ہو گا مگر وہ کہتے ہیں چونکہ بچے اپنی ذات میں جنّت کے مستحق نہیں ہو ں گے اس لئے ان سوالات کے بعد ان کو مٹی کر دیا جائے گا جیسے جانوروں کو اُن کا حق دلانے کے بعد فنا کر دیا جائے گا۔حضرت امام احمد صاحب سرہندی نے امام سیوطی کی آخری رائے کی تائید کی ہے کہ بچے زندہ تو ہوں گے مگر پھر انہیں فنا کر دیا جائے گا۔(تفسیر روح المعانی زیر آیت ھذا) جن لوگوں نے بچوں کو جنتی قرار دیا ہے اُن میں اِس بات پر بحث ہوئی ہے کہ بچے جو جنّتی ہوں گے تو آخر کسی استحقاق کے ماتحت تونہیں ہوں گے کیوں کہ انہوں نے کوئی عمل نہیں کیا ہو گا پھر جنت میں اُنہیںکیوں رکھا جائے گا۔اس پر بعض کہتے ہیں کہ یہ خدا کی دین ہے وہ جس طرح چاہے کرےاس میں کسی انسان کو دخل دینے کا کیا حق ہے اور