تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 313
وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ اس زمانہ میں ایک قسم کے علوم پھیل جائیں گے چنانچہ دنیا میں مغربی علوم کا اب اس قدر غلبہ ہو گیا ہے کہ نفوس انسانی کا آپس میں جوڑ اور اتحاد پیدا ہونا بالکل آسان ہو گیا ہے۔اس زمانہ میں یہ علوم اتنے غالب آ گئے ہیں کہ ساری دنیا پر چھا گئے ہیں۔بالخصوص یوروپین فلسفہ نے انسانی دماغ کو ایک خاص رنگ میں ڈھال دیا ہے اب اگر ایک چینی سو چتا ہے تو مغربی رنگ میں سوچتا ہے جاپانی سوچتا ہے تو مغربی رنگ میں سوچتا ہے عرب سوچتا ہے تو مغربی رنگ میں اور پٹھان سوچتا ہے تو وہ بھی مغربی رنگ میں۔حالانکہ جُدا جُدا قومیں ہیں۔جُدا جُدا زبانیں ہیں مگر مغربی فلسفہ اور مغربی تہذیب سب پر چھا گئی ہے۔اور مختلف اقوام کے افراد علمی طور پر آپس میں ملا دئے گئے ہیں۔اسی طرح اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ مختلف اقوام کے افراد کا آپس میں شادی بیاہ کرنے کا رواج ہو جائے گا۔چنانچہ حبشی عورتیں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے ساتھ بیاہی جاتی ہیں اور انگریز عورتیں دوسری اقوام کے مردوں سے شا دی کر لیتی ہیں۔فرانس میں چلے جاؤ تو تمہیں نظر آئے گا کہ ایک فرانسیسی اپنی حبشی بیوی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جا رہا ہے اُسے یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ میں فرانسیسی ہوں اور یہ حبشی ہے اس طرح انٹر میرج بلزINTER MARRIAGE BILLSپاس ہونے شروع ہو گئے ہیں تاکہ غیر مذاہب والوں کے ساتھ شادی بیاہ میں کوئی روک نہ ہو پہلے اس قسم کی شادیاں لوگ بہت رُک رُک کر کرتے تھے مگر اب زور دے کر انٹر میرج بلز پاس کرائے جاتے ہیں تا کہ اس قسم کی شادیوں میں کوئی روک پیدا نہ ہو سکے۔لاہور میں اُمّ طاہرؓ کی بیماری کے سلسلہ میں جب مَیں مقیم تھا تو ایک بہت بڑے لیڈر مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔اُن کی بیوی بھی ان کے ساتھ تھیں باتوں باتوں میں ان کی بیوی نے جو مسلمان ما ں باپ کے گھر میں پیدا ہوئی تھی بتایا کہ ہم تین بہنیں ہیں جن میں سے دو ہندوئوں میں بیاہی ہوئی ہیں اور ایک کی مسلمان کے ساتھ شادی ہو چکی ہے۔پشاور میں ایک دفعہ اسی بات پر بہت شور اٹھا تھا کیونکہ ڈاکٹر خان کی بیٹی نے ایک سکھ ہوا باز سے شادی کر لی تھی۔غرض مختلف قوموں میں اس قسم کی شادیوں کا رواج بہت ترقی کر چکا ہے جو قرآن کریم کی پیشگوئی وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ کی صداقت کا ثبوت ہے۔اسی طرح اس کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ مختلف قسم کے نفوس مل جائیں گے اور وہ اپنی اپنی الگ سوسائٹیاں بنائیں گے چنانچہ دیکھ لو کہیںلیبر پارٹی بنی ہوئی ہے۔کہیں فاشسٹ پارٹی بنی ہوئی ہے۔کہیں کمیونسٹ پارٹی بنی ہوئی ہے۔اور کہیں سوشلسٹ پارٹی بنی ہوئی ہے۔چند ہم خیال لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر وہ اپنی اپنی پارٹیاں بنا لیتے ہیں۔مزدور اپنے حق کے لئے لڑتا ہے۔صنّاع اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور مدرس اور تاجر اپنے اپنے رنگ میں کوشش کرتا ہے غرض قومی سوسائٹیاں بڑی کثرت سے بن گئی ہیں اور ہر سوسائٹی کوشش کرتی ہے کہ اس کے ہم پیشہ افراد کے حقوق پامال نہ ہوں۔اور ترقی کی دوڑ میں وہ دوسروں سے پیچھے نہ رہے۔یہ تمام علامات ایسی ہیں جو اس زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور اِسی زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پورا کیا ہے۔دنیا کی تاریخ میں اور کوئی زمانہ ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جس میں یہ علامات پوری ہوئی ہوں۔ہر شخص جس کے سامنے ان علامات کو رکھا جائے وہ یہی کہے گا کہ ان میں موجودہ زمانہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اَور کسی زمانہ کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ خطبہ پڑھا اور کہا وَاِذَا لنُّفُوْسُ