تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 301

طرف سمجھی جائے گی یعنی لفظاً تو یہ کہا گیا ہے کہ پہاڑ چلائیں جائیں گے مگر مراد یہ ہے کہ پہاڑوں پر لوگ کثرت سے چلیں گے کیونکہ پہاڑوں پر اچھے راستے تیار ہو جائیں گے۔موجودہ زمانہ میں اس کثرت سے پہاڑ اُڑائے گئے ہیں کہ کوئی حد ہی نہیں رہی۔شاید ہی کوئی پہاڑ ایسا رہ گیا ہو جہاں سڑکیں اور رستے تیار نہ کر لئے گئے ہوں۔ورنہ ہر پہاڑ پر چلنے کے لئے راستے بن گئے ہیں۔پہاڑ کے نیچے ڈائنامیٹ رکھ دیتے ہیں اور وہ فوراً ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔پھر لڑائیوں میں بھی کثرت سے پہاڑ اڑائیں جاتے ہیں۔اوپر دشمن کی فوج موجود ہوتی ہے اور نیچے بارود رکھ کر اُسے اُڑا دیا جاتا ہے پہلے زمانوں میں تو اتنا بارود ہی نہیں تھا کہ پہاڑوں کو اڑایا جا سکتا۔ضمناً اس آیت میں بارود کی کثرت کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کیونکہ سڑکیں وغیرہ تیارنہیں ہو سکتی تھیں جب تک ڈائنامیٹ نہ ہوتا۔اگر ڈائنا میٹ نہ ہوتا تو چٹانوں کا اڑانا بڑامشکل ہوتا۔اسی طرح بعض مشینیں ایسی ایجاد ہو چکی ہیں جو رستوں کو بالکل صاف کر دیتی ہیں۔پس ضمنًا اس آیت میں بارود کی کثرت اور ایسی مشینری کی ایجاد کی طرف بھی اشارہ تھا جن سے پہاڑوں پر سڑکیں وغیرہ تیار ہو سکیں۔اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْمیں علماء اور سادات قوم کو ملکوں سے نکالے جانے کی پیشگوئی (۲)جَبَلٌ کے ایک معنے چونکہ سَیِّدُ الْقَوْمِ وَعَالِمُھُمْ کے بھی ہوتے ہیں اس لئے وَاِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ کے یہ معنے بھی ہیں کہ علماء و ساداتِ قوم کو ملکوں میں سے نکال دیا جائے گا۔اس کی مثال بھی پہلے کہیں نظر نہیں آتی۔موجودہ زمانہ ہی ہے جس میں ایک طرف تمام رُوس سے ایسے مذہبی لوگوں کو نکال دیا گیا ہے جو مذہب کو سیاست پر مقدم رکھتے ہیں۔دوسری طرف ترکوں نے مذہب پر ایسا ہاتھ صاف کیا ہے کہ حکم دے دیا ہےکہ اگر نماز پڑھی جائے تو ترکی میں ہی پڑھی جائے۔قرآن پڑھا جائے تو ترکی میں پڑھا جائے اور اگر کوئی شخص ایسا نہ کرے تو وہ اُسے اپنے ملک سے نکال دیتے ہیں یا قید کر دیتے ہیں۔اگلی آیات پر بحث تو بعد میں آئے گی انہی تین آیات پر غور کر کے دیکھو اور سوچو کہ کیا اس زمانہ سے قبل دنیا میں کسی زمانہ میں بھی ان باتوں کا اجتماع ہوا ہے؟ اگر دنیا کی ساری تاریخ کو جمع کر لیا جائے تب بھی کسی زمانہ میں ان علامات کا تیسرا حصہ تو کیا دسواں حصہ بھی نظر نہیں آئے گا۔سورج چاند کو گرہن لگنا۔شہب کا کثرت سے گرنا اور پھر قومی روایات کا مٹ جانا یہ اتنی بیّن علامات ہیں کہ اس سے پہلے کسی زمانہ میں نظر نہیں آتیں۔چھ ہزار سال تو کیا اگر ایک لاکھ سال کی تاریخ کو بھی جمع کر لیا جائے تو کہیں یہ دکھائی نہیں دے گاکہ مغلوب اقوام کی قومی روایات کو اس طرح مٹا دیا گیا ہوجس طرح آج مٹایا گیا ہے۔یورپ کا ہر جاہل۔شرابی۔ظالم بادشاہ اچھی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور ہر