تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 299
ہو جائیں گی یعنی قومی برتری کے جو اصول رائج ہیں کہ فلاں آدمی فلاں قوم سے ہے اور فلاں آدمی فلاں قوم سے یہ مٹ جائیں گے چنانچہ اس زمانہ میں نسلی برتری کا احساس بالکل مٹا دیا گیا ہے۔یورپ میں تو یہ امتیاز بالکل رہاہی نہیں ہمارے ملک میں بھی آہستہ آہستہ یہ احساس مٹتا چلا جا ر ہا ہے اور جو لوگ خاندانی سمجھے جاتے تھے اُن کا رسوخ اب مفقود ہو رہا ہے۔پس اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ قومی برتری کے جو عام قواعد دنیا میں رائج ہیں وہ اُس وقت نہیں رہیں گے چنانچہ دیکھ لو آج کل اچُھوت اقوام کو اُبھارنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ بھی اسی لئے ہیں کہ ان نسلی امتیازات کو بالکل مٹا دیا جائے۔اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْمیں اس امر کی پیشگوئی کہ علماء اور امراء کا اثر جاتا رہے گا (۳)وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ کے یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ اُس زمانہ میں علماء اور امراء دونوں کا اثر جاتا رہے گا۔قوم کی راہنمائی کی باگ دوڑ انہی دوطبقوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔امراء سیاسی راہنمائی کرتے ہیں۔اور علماء مذہبی راہنمائی کرتے ہیں پس وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ کے یہ معنے ہوئے کہ پبلک کا تعلق علماء اور امراء دونوں سے کمزور ہو جائے گا۔امراء کا اثر دنیوی لوگوں پر سے اُٹھ جائے گا اور علماء کا اثر دینی میلان رکھنے والوں پر سے اٹھ جائے گا۔گویا امراء کی طاقت بھی ٹوٹ جائے گی اور علماء کی طاقت بھی ٹوٹ جائے گی۔اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْمیں شہب کے گرنے کی طرف اشارہ (۴)اِنْکَدَرَتْ کے ایک معنے تَنَاثَرَتْ کے بھی ہیں پس اس معنے کے اعتبار سے جب ہم پہلی آیت کے ساتھ ملاتے ہیں تو چونکہاِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ سورج اور چاند کو گرہن لگے گا اس لئے اس مناسبت سے اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ کے یہ معنے ہوں گے کہ موعود زمانہ میں شہب بڑی کثرت سے گریں گے چنانچہ یہ پیشگوئی بھی بڑی واضح طور پر پوری ہوئی اور ۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ء کو اس کثرت سے شُہب گرے کہ فضاء آسمان میں ہر طرف شعلے جلتے ہوئے نظر آتے تھے اور یورپ اور امریکہ اور ایشیا کی اخبارات نے اس نظارہ قدرت کو عجوبہ سمجھ کر بہت کچھ لکھا اور حیرت ظاہر کی(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۱۰۔Patrick Moor The Guinness Book of Astronomy 5th edition pg۔132)۔اگر ہم شمس کے روحانی معانے کریں تو نُـجُوْم کے بھی روحانی معنے کریں گے اور اگر شمس سے ظاہری سورج مراد لیا جائے تو نجوم کے انکدار سے بھی شُہب کا کثرت سے گرنا مراد لیا جائے گا۔غرض وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ کے یہ معنے ہوئے (۱)کثرت سے شُہب کی بارش ہو گی (۲)یا یہ کہ صحابہؓ کی اتباع بھی جاتی رہے گی۔اُن کے بتائے ہوئے علوم متروک ہو جائیں گے یا یہ کہ اُن کی اتباع نیکی اور تقویٰ میں لوگ چھوڑ دیں گے (۳)یا یہ کہ جو لوگ