تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 293

کے معنے ہوتے ہیں لَفَّھَا۔اُس نے اپنے سر پر عمامہ لپیٹا اور کَــوَّرَ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں صَرَعَہٗ اُس نے فلاں کو گرا دیا۔اور جب کَــوَّرَ الْمَتَاعَ کہیں تو معنے ہوتے ہیں جَمَعَہٗ وَشَدَّہٗ وَ لَفَّہٗ عَلٰی جِھَۃِ الْاِسْتِدَارَۃِ اس نے اپنے مال و اسباب کو جمع کیا۔اُسے باندھا اور اُسے اس طرح لپیٹا جس طرح گٹھڑی کو گول کر کے باندھتے ہیں (اقرب) اس لحاظ سےاِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کے معنے ہوئے جبکہ سورج کو لپیٹا جائے گا یا جبکہ سُورج کو گرا لیا جائے گا۔اگر سورج کے لفظ کا استعمال یہاں مجازًا سمجھ لیا جائے اور سورج سے مادی سورج مراد نہ لیا جائے بلکہ یہ سمجھا جائے کہ اس میں مجازی طور پر کسی انسان کو سورج قرار دیا گیا ہے تو اِن معنوں کا سمجھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔اس صورت میںاِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ میں لفظ شمس کا استعمال مجازی سمجھا جائے گا مگر یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ کُوِّرَتْ کے معنے لغۃً صرف لپیٹے جانے کے نہیں بلکہ اس کے معنے ایسے طور پر لپیٹے جانے کے ہیں جس طرح گٹھڑی کو لپیٹا جاتا ہے۔پس اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کے معنے صرف یہ نہیں کہ جب کہ سورج کو لپیٹا جائے گا بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جبکہ سورج کو گٹھڑی کی طرح باندھ دیا جائے گا اور اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ جس طرح گٹھڑی باندھ کر الگ رکھ دیتے ہیں اسی طرح سورج کو گٹھڑی کی طرح باندھ کر الگ رکھ دیا جائے گااور اس سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رکھا جائے گا۔اسی طرح اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کے ایک معنے حذف مضاف کی صورت میں یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جبکہ سورج کی روشنی کو دور کر دیا جائے گا یا سورج کی روشنی کو لپیٹ دیا جائے گا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سورج کو مٹا دیا جائے گا یعنی جیسے گٹھڑی میں چیز کو باندھ دیا جاتا ہے اور وہ نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے اسی طرح سورج بھی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔تفسیر۔اس آیت کے جو معنے ہماری جماعت کی طرف سے کئے جاتے ہیں اُن کو جب اگلی آیات کے معنوں سے ملایا جائے تو یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جو معنے ہماری جماعت کی طرف سے کئے جاتے ہیں اُن میں کوئی تکلف نہیں بلکہ وہی حقیقی اور صحیح معنے ہیں۔یہ بات میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ ممکن ہے سورۂ تکویر کی اس پہلی آیت کی تفسیر بعض لوگوں کو عجیب معلوم ہو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں اس آیت پر بحث کی ہے اور ہماری جماعت کی طرف سے بھی یہ آیت بالعموم پیش ہوتی رہتی ہے اس لئے وہ دوست جو ہماری جماعت کی باتیں سُنتے رہتے ہیں ان کوتو کوئی تکلف نظر نہیں آئے گا لیکن جو لوگ ہماری جماعت کے لٹریچر سے واقفیت نہیں رکھتے یا جن کو ہمارے سلسلہ کی باتیں سننے کا بہت کم موقع ملتا ہے ان کو شاید ان معنوں میں کوئی تکلّف محسوس ہو لیکن جب وہ ساری آیات پر غور کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ ان معنوں میں تکلّف کوئی نہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ سے مراد آنحضرت صلعم کی اتباع کو ترک کر دیا جانا یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ