تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 292
’’دعوۃ الامیر‘‘ نکلی اوراسے میں نے پڑھنا شروع کیا۔پڑھتے پڑھتے اس کتاب میں وہی ذکر آگیا جس نے میرے دل میں انتہائی طور پر مایوسی پیدا کر دی تھی یعنی اسلام کے تنزّل اور اس کے ادبار کا اس میں ذکر تھا مگر ساتھ ہی بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے تنزّل کے متعلق یہ پیشگوئی کی تھی جو پوری ہو گئی۔وہ پیشگوئی کی تھی۔جو پوری ہو گئی۔غرض یکے بعد دیگرے اسلامی تنزّل کے متعلق کئی پیشگوئیاں تھیں جو پڑھنے میں آئیں اور جو واقعہ میں پوری ہو چکی تھیں۔اس کے بعد آپ نے اسلام کی ترقی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں جو اسلام کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں تو وہ پیشگوئیاں کیوں پوری نہیں ہوں گی جو اسلام کے دوبارہ غلبہ کے متعلق ہیں۔میں نے جب یہ مضمون پڑھا تو میرا دل خوشی سے بھر گیا مایوسی میرے دل سے جاتی رہی۔امید جگمگا اٹھی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں اُس وقت تک سونے کے لئے اپنے بستر پر نہیں جائوں گا جب تک آپ کو اپنی بیعت کا خط نہ لکھ لوںچنانچہ سونے سے پہلے میں یہ خط آپ کو لکھ رہا ہوں میری بیعت کو قبول کیا جائے۔غرض سچی بات یہی ہے کہ جب وہ تکلیفیں اور وُہ دُکھ جو اسلام اور مسلمانوں پر آئے اُن کے متعلق یہ معلوم ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام تکالیف کی خبر پہلے سے دے چکے ہیں تو ان تکالیف میں بھی راحت محسوس ہونے لگتی ہے۔اور انسان سمجھتا ہے کہ جیسے تنزل کی خبریں پوری ہو گئیں اسی طرح ایک دن اسلام کے غلبہ کی پیشگوئیاں بھی پوری ہو جائیں گی اسی طرح اگلی قیامت کا بھی ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے ثبوت مل جاتا ہے کیونکہ جو خدا اس جہان میں مردہ روحوں کا احیاء کر سکتا ہے وہ اگلے جہان میں کیوں نہیں کر سکتا۔اگر اس دنیا کی روحانی موت اور اس کا احیاء پیشگوئیوں کے مطابق ہو سکتا ہے تو اگلے جہان میں بھی مُردوں کا احیاء پیشگوئیوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)۔اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ۰۰۲ جب (نورِ) آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا۔حَلّ لُغَات۔کُوِّرَتْ کُوِّرَتْ کَوَّرَ سے مجہول کا مؤنث کا صیغہ ہے اور کَوَّرَ الْعَمَامَۃَ عَلٰی رَأْسِہٖ