تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 291

ہیں جن میں سے دو بھائی غیر احمدی ہیں اور دو بھائی احمدی ہیں۔اپنے متعلق انہوں نے کہا کہ میں ابھی تک آپ کی جماعت میں شامل نہیں ہوا۔مَیں نے اُن سے کہا کہ آپ کیوں احمدی نہیں ہوئے کیا آپ کو احمدیت کی صداقت کے متعلق کوئی شبہ ہے؟ ان کی طبیعت میں مذاق تھا وہ میرے اس سوال کے جواب میں کہنے لگے کہ مجھے تو ابھی تک احمدیت پر غور کرنے کا موقع نہیں ملالیکن بات یہ ہے کہ ہم پورا پورا انصاف کرنے کے عادی ہیں۔روپیہ میں سے اٹھنّی ہم نے آپ کو دے دی ہے اور اٹھنّی دوسرے مسلمانوں کو دے دی ہے۔میں نے بھی اُن سے مذاقًا کہا کہ خاں صاحب ہم تو اٹھنّی پر راضی نہیں ہوتے ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔وہ کہنے لگے تو پھر اپنی توجہ سے لے لیجئے۔میں نے کہا ہماری کوشش تو یہی ہے اللہ تعالیٰ جب چاہے گابقیہ اٹھنی بھی مل جائے گی۔وہ اُس وقت مع اہل وعیال انگلستان کی سیر کو جا رہے تھے میری اس بات کو سُن کر انہوں نے کہا کہ خان محمد اکرم خان صاحب چار سدّہ والے میرے بھائی ہیں انہوں نے آپ کی بعض کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی ہیں۔میں نے اُن سے کہا بھی ہے کہ میں تو وہاں سیر کے لئے جا رہا ہوں ان کتابوں کے پڑھنے کا کہاں موقع ہو گا مگر وہ مانے نہیں اور زبردستی میرے ٹرنک میں انہوں نے کتابیں رکھ دی ہیں مگر اب تک مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔چنانچہ اس کے بعد وہ ولایت چلے گئے۔ابھی تین مہینے ہی گزرے تھے کہ مجھے ایک چٹھی پہنچی۔اس کے شروع میں ہی یہ لکھا تھا کہ میں اصل مطلب لکھنے سے پہلے آپ کی شناخت کے لئے یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جو آج سے تین ماہ پہلے دہلی کے شاہی قلعہ میں آپ سے ملا تھا اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہم نے پورا پورا انصاف کیا ہے اٹھنّی آپ کو دے دی ہے اور اٹھنّی غیر احمدیوں کو دے دی ہے جس پر آ پ نے کہا تھا کہ ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں سو آپ کے حکم کے مطابق اب ایک اور چونّی آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور اپنے آپ کو بیعت میں شامل کرتا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے اسی مضمون کی طرف جس کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں اشارہ کیا اور لکھا کہ جب میں ولایت میں آیا اور میں نے مختلف مقامات کی سیر کی تو گو میں پٹھان ہوں اور مذہبی جوش میرے دل میں موجود ہے مگر کفر کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر میرا دل پژمردہ ہوتا چلا گیااور میں نے کہا کہ اسلام اس قدر گر چکا ہے اور کفر اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ اب بظاہر اسلام کے پنپنے اور کفر کے سرنگوں ہونے کا دنیا میں کوئی امکان نہیں۔اسلام مر چکا ہے اب اُ س کے زندہ ہونے کی امید ایک واہمہ سے بڑھ کر حقیقت نہیں رکھتی۔یہ خیالات تھے جو میرے دل پر غالب آتے چلے گئے اور اس قدر میرے دل میں مایوسی پیدا ہوئی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب اسلام دنیا پر غالب نہیں آسکتا۔ایک دن میرے دل پر اس خیال کا بے انتہاء اثر ہوا اور حالت مایوسی میں مَیں نے کہا آئو ان کتب کو پڑھ کر دیکھو جو میرے بھائی نے میرے ٹرنک میں رکھ دی تھیں چنانچہ پہلے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ نِکلی اور اُسے میں نے پڑھا اس کے بعد آپ کی کتاب