تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 290

لیکن اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو بہت ممکن تھا کہ وہ گھبرا جاتے۔پس وہی چیز جس کو دشمن ڈرانے کے لئے استعمال کرتا ہے اسی میںایمان کی مضبوطی کا سامان اللہ تعالیٰ نے رکھا ہوتا ہے۔اور وہ سمجھتا ہے کہ جب خدا نے اس تنزل کی خبر دی تھی اور خدا تعالیٰ کے کلام میں یہ بات موجود تھی تو پھر میرے لئے اس میں گھبرانے کی کون سی بات ہے۔غرض مومن کے لئے اُن ابتلائوں میں جو خدائی پیشگوئی کے ماتحت آئیں بڑی بھاری طاقت ہوتی ہے کیونکہ ان ابتلائوں اور ان مصیبتوں اور اُن دکھوں سے اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی ہیں۔اگر وہ ابتلا نہ آئیں تو وہی دشمن جو ان ابتلائوں کو اسلام کے جھوٹا ہونے کی دلیل قرار دیتا ہے جھٹ یہ کہنے لگ جائے کہ تمہارے نبی نے تو یہ یہ خبر دی تھی مگر اب تک پوری نہیں ہوئی۔لیکن جب وہ خبر پوری ہو جاتی ہے۔جب پیشگوئیوں کے مطابق ایک تنزل کا دور آجاتا ہے تو اسی کو مذہب کے جھوٹا ہونے کا ثبوت قرار دے دیتا ہے حالانکہ یہ صداقت کا ثبوت ہوتا ہے۔یہ اس نبی کی راستبازی کا ثبوت ہوتا ہے یہ کفر کی شکست کا ثبوت ہوتا ہےکیونکہ جیسے ترقی کے متعلق خدا تعالیٰ کی بات پوری ہوئی تنزل کے بارہ میں بھی خدا تعالیٰ کی بات پوری ہوئی اور یہی ثابت کرنا مذہب کا اولین کام ہوتا ہے۔پس یہ ایک بڑا بھاری نکتہ ہے جس کو سمجھ لینے کے بعد زمانۂ تنزل میںبھی انسان کا ایمان کبھی متزلزل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا قدم ایک مضبوط چٹان پر قائم رہتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرا مذہب بہرحال سچا ہے غلبہ کے ایام میں بھی وہ سچا تھا اور تنزل کے ایام میں بھی وہ سچا ہے کیونکہ اس تنزل کی وہ پہلے سے خبر دے چکا تھا۔مگر افسوس کے مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہ سمجھا اور وہ مایوسی کا شکار ہو گئے۔میں نے اپنی کتاب دعوۃ الامیر میں اس بات کو ایک حد تک تشریح سے بیان کیا ہے اور اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ اسلام کے تنزل کی خبریں بھی اپنے اندر اسلام اور قرآن کی صداقت کا ثبوت رکھتی ہیں کیونکہ ان خبروں کا قرآن اور احادیث میں تفصیل سے ذکر آتا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی اسلام صرف تنزل کی خبر پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس نے یہ خبر بھی دی ہوئی ہے کہ اس زمانہ میں تنزل کے بعد اسلام پھر اپنے کمال کو پہنچے گا۔پھر کُفر اپنے مُنہ کے بل گرے گا اور پھر ساری دنیا پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا غلبہ ہو گا۔پس یہ تنزل اپنے اندر ایک ترقی کی بشارت رکھتا ہے۔اور یہ تاریکی ایک سورج کے نمودار ہونے کی خبر دے رہی ہے اور جب حالت یہ ہے تو مسلمان کیوں مایوس ہیں اور کیوں وہ خدائی وعدوں کے مطابق غور نہیں کرتے کہ وہ آسمانی روشنی کہاں ظاہر ہوئی اور اس ظلمت کے پردے چاک کرنے والا سورج کس جگہ طلوع ہوا ہے۔اسی سلسلہ میں مَیں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ اس بار ہ میں مجھے ایک عجیب تجربہ ہوا ہے۔سرحد کے ایک رئیس چوہدری فقیر محمد صاحب اگزکٹو انجینئر تھے وہ ایک دفعہ دہلی میںمجھے ملے اور انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ ہم چار بھائی