تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 289

اپنے منشاء کو پورا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہےاور اپنے پیاروں کو اس سے اطلاع دیتا رہتا ہے تاکہ وہ اور لوگوں تک ان باتوںکو پہنچا دیں اور اس طرح پیشگوئیاں اُن کے دلوں کی ڈھارس کا موجب بن جائیں۔یوں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی تنزّل کا دَور آیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی تنزل کا دَور آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تنزل کا دَور آیا مگر اس تنزل کا انبیاء کی پیشگوئیوں میں ضرور ذکر ہوتا ہے تاکہ جب یہ زمانہ آئے تو اُس وقت یہ تنزل بھی نبی کی صداقت کا ثبوت بن جائے اگر تنزل بغیر کسی پیشگوئی کے آجائے تو لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک اتفاقی بات ہے لیکن اگر تنزل آنے کی پہلے سے خبر موجود ہو تو مومن کہہ سکتے ہیں کہ یہ تنزل بھی ہماری صداقت کا ثبوت ہے کیوں کہ اس تنزل کی پہلے سے پیشگوئیاں موجود ہیں۔لیکن اگر تنزل کی ہی خبر ہو تنزل کے بعد ترقی کی خبر نہ ہو تو یہ بھی دلوں کو مایوس کرنے والی بات ہو سکتی ہے اسی لئے جہاں ایک طرف تنزل کی خبر دی جاتی ہے تاکہ جب یہ دَور آئے تو خود تنزل اپنی ذات میں انبیاء کی صداقت کا ایک ثبوت ہو وہاں تنزل کے بعد ایک ترقی کی بھی خبر دی جاتی ہے تا کہ مسلمانوں کو اطمینان رہے اور کفر اپنی دائمی سربلندی کی کبھی امید نہ رکھے۔اگر یہ ترقی کسی نبی سے وابستہ ہو تو اس نبی کی خبر دی جاتی ہے اور اگر کسی اور شخص سے وابستہ ہو تو اس کی خبر دی جاتی ہے۔بہرحال یہ ایک عظیم الشان گُر ہے جو دلوں کو بڑھانے اور ان کو ڈھارس دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے میرا اس کے متعلق ذاتی طور پر ایک بڑا زبردست تجربہ ہے میں نے اپنی کتاب ’’دعوۃ الامیر‘‘ میں اس نکتہ کو بیان کیا ہے کہ اسلام پر آج جو مصیبت آئی ہوئی ہے اس کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں تفصیلاً موجود ہے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے اس تنزل کی خبر دے چکے ہیں۔بلکہ اس تنزّل کے بعد ایک ترقی کے دَور کی بشارت بھی آپ سُنا چکے ہیں تو مسلمانوں کے لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔یہ تنزل جتنا بڑھتا چلا جائے ہم کہیں گے کہ اس سے اسلام کی تکذیب ہونے کی بجائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ آپ کے کلام میں ان کا پہلے سے ذکر موجود ہے۔قرآن کریم میں اس کی مثال بھی پائی جاتی ہے چنانچہ سورۂ احزاب میں ذکر آتا ہے کہ جب کفار کے لشکر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہو گئے اور منافقوں نے طعنے دینے شروع کر دئے کہ دنیا کی فتوحات کے وعدے کہاں گئے تو اس وقت مومنوں کے ایمان اور بڑھ گئے اور انہوں نے کہا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ٞ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا (الاحزاب :۲۳)یعنی اس کی خبر تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے دے چکے تھے اس لئے ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ خدا کے منہ کی بات پوری ہوئی۔غم اور فکر کی کون سی بات ہے۔تو دیکھو اس وعدہ کی وجہ سے وہ ڈرے نہیں