تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 285

عرب حکومت تبا ہ ہو گئی۔اسی طرح اس زمانہ میں بجائے محنت اور قربانی اور سفروں کے عرب لوگوں نے شہری زندگی اختیا کر لی اور بڑی بڑی عمارتیں بنانے میںمشغول ہو گئے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک مجلس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کر رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے ساعت کے بارہ میں سوال کیا آپ بات کرتے رہے اور اُس کی بات کا جواب نہ دیا جب پہلی بات ختم کر چکے تو فرمایا ساعت کے بارہ میں سوال کرنے والا کہاں ہے۔سوال کرنے والے نے کہا کہ میں حاضر ہوں اس پر آپ نے فرمایا فَاِذَا ضُیِّعَتِ الْاَمَانَۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ یعنی جب امانت میں کمی آجائے گی اُس وقت سے قیامت کا انتظار کرو۔اِس پر اُس شخص نے کہا فَکَیفَ اِضَاعَتُھَا؟ یا رسول اللہ امانت کس طرح ضائع ہو گی اس پر آپ نے فرمایا اِذَا وُسِّدَ الْاَمْرُ اِلٰی غَیْرِ اَھْلِہٖ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ (بخاری کتاب العلم باب من سُئل علمًا وھو مشغولٌ فی حدیثہٖ) یعنی امانت سے مراد امانتِ حکومت ہے پس جب حکومت نااہل لوگوں کے سپرد کی جائے گی اس وقت سے قیامت کے منتظر ہو جائو۔اس جگہ قیامت سے مراد مسلمانوں کی تباہی اور تنزّل کا وقت ہے۔اسی طرح بخاری میں آتا ہے اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یَّرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَثْبُتُ الْجَھْلُ وَیُشْرَبُ الْخَمْرُ وَیَظْھَرُ الزِّنَا (بخاری کتاب العلم باب رفع العلم و ظھور الجھل ) یعنی قیامت کی علامات میں سے یہ علامات ہیں کہ علم اُٹھ جائے گا اور جہالت قائم ہو جائے گی اور شراب پی جائے گی اور زنا علی الاعلان کیا جائے گا یعنی کنچنیوں کا طریق رائج ہو جائے گا اور لوگ اپنی زنا کاریوں کا مجالس میں فخر سے ذکر کریں گے۔اِ س حدیث میں قیامت سے مراد اسلام کا تنزّل ہے۔اسی طرح بخاری کی حدیث ہے لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَکْثَرُ الزَّلَازِلُ وَیَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَتَظْھَرُ الْفِتَنُ وَیَکْثُرُ الْھَرَجُ وَھُوَالْقَتْلُ وَحَتّٰی یَکْثُرُ فِیْکُمُ الْمَالُ فَیَفِیْضُ (بخاری کتاب الاستسقاء باب ماقیلَ فی الزلازل و الآیات) یعنی قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم مٹ نہ جائے اور زلازل کثر ت سے نہ آئیں اور علمِ تاریخ ترقی نہ کر جائے اور کثرت سے فتن ظاہر نہ ہوں اور قتل کا رواج ترقی نہ کر جائے اور مال کی اس قدر زیادتی نہ ہو جائے کہ لوگ مسرف ہو جائیں۔یہ حدیث بھی مسلمانوں کے تنزّل کو قیامت کا نام دیتی ہے۔اسی طرح بخاری میں حدیث ہے لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا قَوْمًا نِعَالُھُمُ الشَّعْرُ۔وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا قَوْمًا کَاَنَّ وُجُوْھُھُمُ الْمَجَانُ الْمُطْرِقَۃُ (بخاری کتاب الجہاد باب قتال الذین ینتعلون