تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 284
تھا۔اونٹ اور بکریاں چرانے والے ساری دنیا کے بادشاہ ہو گئے اور مقہور اور مغلوب قوم زبردست بادشاہتوں کی مالک ہو گئی۔اسی طرح دوسرے معنوں کے رُو سے بھی انہیں بغیر حساب ملا یعنی وہ ایسے تقویٰ کے مالک ہوئے کہ آج تک اُن کی نیکی کی دنیا تعریف کر رہی ہے۔انہوں نے بہت کچھ کمایا لیکن گنْوایا نہیں۔اُسے اس طرح خرچ کیا کہ اس دنیا میں نیکی اور اگلے جہان میں ثواب کاموجب ہوا (اس بارہ میں دیکھو سورۂ نور آیت ۳۸ وسورۂ ص آیت ۴۹ و سورۂ زمر آیت ۱۰ )خلاصہ یہ کہ آیت مذکورہ بالا میں جس یومِ قیامت کا ذکر ہے اس سے مراد غلبۂ اسلام ہے کیونکہ اسی موقعہ پر مسلمانوں کو کفار پر فوقیت حاصل ہو چکی تھی اور بغیر حساب رزق بھی مل گیا تھا۔اسی طرح سورۃ قیامۃ میں دو قیامتوں کا ذکر ہے ایک اس دنیا کی اور ایک آخرۃ کی چنانچہ ایک قیامت کا یوں ذکر ہے فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القیامة :۸ تا ۱۰) یعنی اس وقت چاند گرہن لگے گا اور اس کے بعد سورج گرہن لگے گا اور گرہن مرنے والی قیامت کی علامت نہیں بلکہ مہدی مسعود کی علامت احادیث سے ثابت ہے پس ان آیات میں جس قیامت کا ذکر کیا ہے وہ آخری زمانہ میں اسلام کے احیاء کی قیامت ہے نہ مرنے کے بعد اُٹھنے والی۔اِن آیات کے سوا متعدد جگہ قرآن کریم میں قیامت اور ساعۃ سے مراد اس دنیا کے کسی عظیم الشان انقلاب کو مراد لیا گیا ہے اور آیات زیر تفسیر میں بھی جس قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (جیسا کہ اگلے مضامین سے ثابت ہو گا) اس سے مراد اس دنیا کی قیامت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مرنے کے بعد پھر زندہ کرے گا اور اسلام مٹ کر پھر تازہ ہو گا اور اس زمانہ کی علامات اس اور اس سے بعد کی سورۃ میں بیان کی گئی ہیں۔احادیث میں قیامت سے مراد انقلاب دنیا جیسا کہ قرآن کریم کے محاورہ میں قیامت سے مراد اس دنیا کا انقلاب بھی لیا گیا ہے۔احادیث نبی کریم ؐ میں بھی قیامت اور ساعۃ ان معنوں میں مستعمل ہوئے ہیں چنانچہ بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل عن علم الساعۃ میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبریل انسانی شکل میں متمثل ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ کے صحابہ کو بھی نظر آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مَتَی السَّاعَۃُ قیامت کب آنے والی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھااَعْلَمُ مِنَ السَّائِلِ وَ سَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذا وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَ لَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمِ فِیْ الْبُنْیَانِ یعنی اس بارہ میں سائل سے زیادہ مجھے علم نہیں ہاں میں اُس کی علامات بتا دیتا ہوں۔اس کی علامات یہ ہیں کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے گی اور اونٹوں کے چرانے والے اونچے اونچے مکان بنائیں گے چنانچہ یہ بنو عباس کی ترقی کے زمانہ میں ہوا۔اکثر بادشاہوں نے لونڈیوں کو گھر میں ڈالا اور ان کی اولاد بادشاہ ہوئی اور ان کے رشتہ داروں کے ذریعہ سے