تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 279

سُوْرَۃُ التَّکْوِیْرِ مَکِّیَّةٌ سورۃ تکویر۔یہ سورۃ مکّی ہے۔وَ ھِیَ تِسْعٌ وَّ عِشْرُوْنَ اٰیَةً دُوْنَ الْبَسْمَلَةِ وَ فِیْھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے علاوہ اُنتیس آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃتکویر مکی ہے سورۃ التکویرمکّی ہے۔۶ ؁قبل ازہجرت یا اس سے کچھ پہلے کی معلوم ہوتی ہے۔سورۃ تکویر میں قیامت کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سورۃ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَّنْطُرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّہٗ رَأْیُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ اِذَالشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَاِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ وَاِذَالسَّمَآءُ انْشَقَّتْ اَخَرَجَہُ اَحْمَدُ وَ التِّرْمَذِیُّ وَحَسَّنَہٗ وَالْحَاکِمُ وَصَحَّحَہٗ (تفسیر روح المعانی سورۃ التکویر ابتدائیہ ) یعنی ابن عمرؓ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو قیامت کو اس طرح معلوم کرنا چاہے جس طرح آنکھوں دیکھی چیز اُسے اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَاِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ وَاِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۔سے شروع ہونے والی سورتیں پڑھنی چاہئیں۔ترمذی نے اس روایت کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے اور مسند احمد بن حنبل میں بھی یہ روایت مذکور ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس سورۃ میں ایک یوم القیامۃ کا جو نقشہ کھینچا گیاہے وہ ایسا تفصیلی ہے کہ یوم القیامۃ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ اس سے مراد وہ یوم القیامۃ ہے جو تمام بنی نوع انسان کے مرنے کے بعد آئے گا یا کوئی اور ہے۔قیامت سے مراد بعثت انبیاء سو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں قیامت کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہے۔مرنے کے بعد جب سب لوگ زندہ کئے جائیں گے اس کے لئے بھی قیامت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔نبی کی بعثت کے لئے بھی قیامت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔نبی کے دشمنوں کی تباہی کے لئے بھی قیامت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اور نبی پر ایمان لانے والوں کی ترقی کے لئے بھی قیامت کا لفظ استعمال ہوتا ہےنبی کی بعثت بھی قیامت ہے کیونکہ وہ موجب ہوتی ہے ہر ایک چیز کے اُبھر آنے کا۔نبی جب ظاہر ہوتا ہے تو نیکی کی طاقتیں بھی اُبھر آتی ہیں اور بدی کی طاقتیں بھی اُبھر آتی ہیں اس لئے وہ بھی ایک قیامت ہوتا ہے کیونکہ اُس کے آنے پر دنیا میں ایک حشر برپا