تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 277
کے سارے جسم پر مٹی لگ جاتی ہے۔اسی طرف اِن آیات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کوذبح کرنے کے لئے پہلے ہم زمین پر لٹائیں گے جس سے اُن کے منہ پر مٹی لگے گی مگر جب انہیں ذبح کیا جائے گا اور یہ تڑپنا شروع کریں گے۔تو پھر اُن کا سارا جسم مٹی سے ڈھانپا جائے گا گویا کفار کی کامل تباہی کی خبر دی گئی ہے۔اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُؒ۰۰۴۲ یہی وہ (لوگ)ہوں گے جو کافر اور بد کار ہیں۔حَلّ لُغَات۔کَفَرَۃٌاَلْکَفَرَۃُ کَافِرٌ کی جمع ہے جو کَفَرَ سے اسم فاعل ہے اور کَفَرَ کے معنے ہیں ضِدُّ اٰمَنَ وہ والا ایمان نہ لایا اور جب کَفَرَ نِعْمَۃَ اللّٰہِ کہیں تو معنے ہوں گے جَحَدَھَا وَسَتَرَھَا یعنی خدا کی نعمت کی ناقدری و ناشکری کی اور اس کا انکار کیا۔اور جب کَفَرَ الشَّیْءَ کہیں تو معنے ہوں گے سَتَرَھَا کسی چیز کو چھپا دیا (اقرب) پس کَافِر کے معنے ہوں گے (۱)ایمان نہ لانے والے (۲)اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے والے (۳)کسی بات کو چھپانے والا۔اقرب کا مصنّف لکھتا ہے کہ کَفَرَۃٌ عربی زبان میں عمومًاان لوگوں کے لئے بولتے ہیں جو خدا کی نعمتوں کی ناقدری کریں۔(اقرب) اَلْفَجَرَۃُ۔اَلْفَجَرَۃٌ اَلْفَاجِرُ کی جمع ہے جو فَجَرَ (یَفْجُرُ) سے اسم فاعل ہے۔فَجَرَ الرَّجْلُ(فُجُوْرًا) کے معنے ہیں اِنْبَعَثَ فِیْ الْمَعَاصِیْ وَزَنٰی وَفَسَقَ۔وہ گناہوں کے ارتکاب میں لگ گیا حتیٰ کےکھلی کھلی بے حیائی کے کام کرنے شروع کر دئے۔اور جب فَـجَرَالْحَالِفُ کہیں تو معنے ہوں گے کَذِبَ قسم کھانے والے نے جھوٹی قسم کھائی۔نیز کہتے ہیں فَـجَرَفُلَانًا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ کَذَّبَہٗ وَعَصَاہُ وَخَالَفَہٗ یعنی فلاں شخص کو جھٹلایا اور اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف کہا۔اور جب فَـجَرَ اَمْرُ الْقَوْمِ کا فقرہ کہیں تو معنے ہوں گے فَسَدَ قوم کا معاملہ خراب ہو گیا۔اور جب فَـجَرَ فُلَانٌ عَنِ الْحَقِّ کہیں تو معنے ہوں گے عَدَلَ عَنْہُ۔حق بات سے پھر گیا (اقرب) پس اَلْفَجَرَۃُ کے معنے ہوں گے (۱)حق بات سے پھرنے والا (۲)جھوٹی قسمیں کھانے والے (۳)نافرمان اور خدا کے احکام کو جھٹلانے والے (۴)بے حیائی کے کام کرنے والے (۵)ایسے لوگ جن کا معاملہ خراب ہو چکا ہو۔تفسیر۔یہ سمجھ لو کہ یہ تباہ ہونے والے لوگ ہی کافر اور فاجر ہیں گویا واقعہ تمہیں خود بخود بتا دے گا کہ کون لوگ ایمان لانے والے ہیں اور کون لوگ کفر اور فسق و فجور میں ترقی کرنے والے ہیں۔اب تم لوگوں کو دیکھ کر یہ نہیں