تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 274
رشتہ دار سے علیحدہ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حلقۂ اطاعت میں آگئے اور انہوں نے کسی دنیوی محبت کی خدا اور اس کے رسول کی رضاء کے مقابلہ میں پروا نہ کی۔لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ۔اور پھر وہ اسلام اور قرآن کی محبت میں ایسے محو ہو گئے کہ وہ دُنیا اور اس کی دلچسپیوں کو بالکل بھول ہی گئے۔يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ کا نظارہ صحابہ کرام میں تاریخ اسلام کے صفحات پر صحابہؓ کرام کی اس قربانی کی کتنی ہی واضح مثالیں موجود ہیں مگر میں اس جگہ صرف دو مثالیں بیان کر دیتا ہوں جن کا میں پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کر چکا ہوں۔ایک نوجوان جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا وہ مسلمان ہو گیا۔اُس کے ماں باپ نے اُسے کئی قسم کی تکلیفیں دینی شروع کیں یہاں تک کہ اس کے برتن الگ کر دئے مگر وہ اسلام کو ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوا آخر کچھ عرصہ کے بعد وہ مکّہ سے ہجرت کر کے چلا گیا۔کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ پھر مکّہ میں واپس آیا جس پر اُس کے ماں باپ اُسے بڑے شوق اور محبت سے ملے۔انہوں نے سمجھا کہ یہ اسلام سے توبہ کر چکا ہے اور بیٹے نے یہ سمجھا کہ یہ میرے بعد اسلام کی دشمنی کو ترک کر چکے ہیں اور اس لئے مجھے محبت سے مل رہے ہیں اور اب اپنے افعال پر پچھتاتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد ماں باپ نے کہا بیٹا ہم تو تمہیں پہلے بھی یہی نصیحت کیا کر تے تھے کہ اس صابی کی طرف مت جائو۔اُن کا اشارہ اس صابی کے لفظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف تھا۔گویا اس رنگ میں انہوں نے اپنی خیر خواہی جتانی شروع کر دی کہ ہم تو تمہیں پہلے ہی کہا کرتے تھے کہ اسلام میں داخل ہو کر تم نے بڑی غلطی کی۔اب اچھا ہوا جو اسلام کو چھوڑ کر پھر ہم میں شامل ہو گئے ہو۔اُس نوجوان نے جب یہ بات سُنی تو وہ اُسی وقت کھڑا ہو گیا اور کہا ماں!تم میری ماں ہو اور باپ! تم میرے باپ ہو مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مجھے اور کوئی پیارا نہیں۔میں نے یہ سمجھا تھا کہ تمہارے دل میں رحم پیدا ہو چکا ہے اور تم اپنے افعال پر پشیمان ہو لیکن میرا خیال غلط نکلا۔اگر تمہارا میرے ساتھ ملنا اسی شرط سے وابستہ ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دُوں تو یہ ناممکن بات ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی میری ماں ہیں۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھا اور پھر اُس نے مرتے دم تک اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا۔پھر اس عورت کے واقعہ پر غور کرو جو مدینہ کی رہنے والی تھی جو جنگ اُحد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سُن کر دیوانہ وار اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی تھی اور جب اُسے یکے بعد دیگرے بتایاگیا کہ تیرا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے۔تیرا خاوند اس جنگ میں مارا گیا ہے تیرا بھائی اس جنگ میں مارا گیا ہے تو اُس نے کہا میں تم سے یہ نہیں پوچھتی کہ میرے باپ اور میرے خاوند اور میرے بھائی کا کیا حال ہے میں تم سے یہ پوچھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے