تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 273
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰۳۴يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِۙ۰۰۳۵ پھر (یہ بھی تو سوچو کہ) جب کان پھاڑنے والی (مصیبت) آئے گی جس دن کہ انسان اپنے بھائی سے (دُور) بھاگے وَ اُمِّهٖ وَ اَبِيْهِۙ۰۰۳۶وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِيْهِؕ۰۰۳۷لِكُلِّ امْرِئٍ گا اور (اسی طرح) اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے (بھی) اس دن ہر ایک آدمی کی حالت مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِؕ۰۰۳۸ ایسی ہو گی کہ وہ اُسے اپنی (ہی) طرف اُلجھائے رکھے گی۔حَلّ لُغَات۔اَلصَّآخَۃُ: اَلصَّاخَۃُ صخَّ سے اسم فاعل کا مؤنث کاصیغہ ہے۔اور صَخَّ الصَّوْتُ الْاُذُنَ کے معنے ہوتے ہیں اَصمَّھَا۔اتنے زور کی آواز آئی کہ اُس نے کان پھاڑ دیا اور اُسے بہرہ کر دیا (اقرب) اَلصَّآخَۃُ کے معنے ہیں صَیْحَۃُ تُصِمُّ لِشِدَّتِھَا۔ایسے زور کی آواز جو کانوں کو بہرہ کر دے نیز اس کے معنے ہیں اَلدَّاھِیَۃُ سخت مصیبت۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جب وہ کان پھاڑنے والی آواز آجائے گی یَوْمَ یَفِرُّالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ جس دن کہ آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا وَاُمِّہٖ اور اپنی ماں سے بھاگے گا وَاَبِیْہِ اور اپنے باپ سے بھاگے گا وَصَاحِبَتِہٖ ا ور اپنی بیوی سے بھاگے گا وَبَنِیْہِ اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔لِکُلِّ امْرِيءٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔اُس دن انسان کے حالات ایسے ہوں گے کہ وہ گردوپیش کی طرف نہ دیکھ سکے گا اور دوسروں کی طرف وہ توجہ ہی نہ کرے گا۔قیامت کے دن تو لوگوں کی ایسی حالت ہو گی ہی۔الصَّآخَّةُسے مراد قرآن کی آواز صحابہؓ کے حالات پر غور کر کے دیکھو جس وقت قرآن کا نزول ہوا کس طرح دنیا نے اپنی آنکھوں سے اس نظارہ کا مشاہدہ کیا کہ باپ نے بیٹے کو چھوڑ دیا بیٹے نے باپ کو چھوڑ دیا۔ماں بیٹی سے الگ ہو گئی اور بیٹی ماں سے الگ ہو گئی۔بھائی بھائی سے جدا ہو گیا اور دوست دوست سے علیحدہ ہو گیا۔یَوْمَ یُفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ بھائی بھائی کو چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا۔خاوند اپنی بیوی کو چھوڑ کر اور بیوی اپنے خاوند کو چھوڑ کر۔باپ اپنے بیٹے سے الگ ہو کر اور بیٹا اپنے باپ سے الگ ہو کر۔ماں اپنی بیٹی کو چھوڑ کر اور بیٹی اپنی ماں سے علیحدہ ہو کر۔دوست اپنے دوست کو چھوڑ کر اور رشتہ دار اپنے