تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 23
وہ معنے یہی ہیں کہ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ رَاحَۃً ہم نے تمہاری نیند کو ایک راحت کا ذریعہ بنایا ہے اور چونکہ سُبَات کے ایک معنے دَھْر کے بھی ہوتے ہیںاس لئے جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا کے معنے جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ دَھْرًا کے بھی ہوسکتے ہیں۔یعنی تمہاری نیند کے زمانہ کو ایک لمبا زمانہ بنایا ہے۔اس صورت میں نیند سے مراد وہ زمانہ ہو گا جب روحانی سورج کا طلوع نہیں ہوتا اور قوم غفلت کی حالت میں سو رہی ہوتی ہے گویا مراد یہ ہے کہ جب کوئی قوم سوتی ہے تو پھر ایک لمبے عرصہ تک سوتی چلی جاتی ہے۔وَّ جَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًاۙ۰۰۱۱ اور ہم نے رات کو پردہ پوش بنایا ہے۔حل لغات۔لِبَاس لِبَاسٌ کے معنے مفردات میں یوں لکھے ہیں وَجُعِلَ اللِّبَاسُ لِکُلِّ مَا یُغَطِّیْ مِنَ الْاِنْسَانِ عَنْ قَبِیْحٍ یعنی لباس کا لفظ ہر ایسی چیز پر بولا جاتا ہے جو انسانی عیوب اور نقائص کو چھپا دیتی ہے پس جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا کے معنے یہ ہوںگے کہ ہم نے رات کو تمہاراننگ ڈھانکنے والی چیز بنایا ہے اور اسی لحاظ سے رات کو لباس قرار دیا گیا ہے کیونکہ عربی زبان میںہر وہ چیز جو عیوب ڈھانکنے کا کام دے وہ لباس کہلاتی ہے جیسے قرآن کریم میں ہی ایک دوسرے مقام پر لِبَاسُ التَّقْویٰ (الاعراف :۲۷ ) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔تقویٰ کو بھی لباس انہی معنوں میں کہا گیا ہے کہ تقویٰ انسانی عیوب کو ڈھانکتا ہے پس اللہ فرماتا ہے ہم نے رات کو تمہارے عیوب ڈھانکنے والی چیز بنایا ہے۔اقرب ؔمیں ہے اَلِلّبَاسُ: اَلْاِخْتِلاطُ وَالْاِجْتِمَاعُ یُقَالُ ’’ بَیْنَہُمْ لِبَاسٌ‘‘ اَیْ اِخْتِلَاطٌ وَ اِجْتِمَاعٌ (اقرب)یعنی اختلاط اور اجتماع کو بھی لباس سے تعبیر کرتے ہیں چنانچہ عرب کہتے ہیں بَیْنَہُمْ لِبَاسٌ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اُن کے درمیان اختلاط اور اجتماع ہے۔لسانؔ میں ہے لِبَاسُ کُلِّ شَیْ ئٍ غِشائُ ہٗ۔ہر چیز کا پردہ اُس کا لباس کہلاتا ہے۔تفسیر۔رات کو لباس بنانے کا مطلب اگر رات نہ آئے اور انسان ہر وقت جاگتا رہے تودوچار دن میں ہی وہ پاگل ہو جائے مگر رات آنے کی وجہ سے انسان کا یہ نقص ظاہر نہیں ہوتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات کو بنی نوع انسان کا لباس بنایا ہے اور وہ انسان کی محدود طاقت کے نقائص کو چھپا دیتی ہے۔اس طرح رات کے