تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 22
وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ۰۰۱۰ اور ہم نے تمھاری نیند کو موجب راحت بنا یا ہے۔حل لغات۔سُبَات سُبَاتٌ سَبْتٌ سے ہے اور سَبْتٌ کے اصل معنے کسی چیز کو کاٹنے کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں سَبَتَ السَّیْرَ چمڑے کے ٹکڑے کو لمبے رنگ میں کاٹا۔وَسَبَتَ شَعْرَہٗ: حَلَقَہٗ اُس نے بالوں کو کاٹا۔اور ہفتہ کو یومِ سبت اس لئے کہا گیا کہ اُس دن یہودی اپنے کام کاج چھوڑ دیتے تھے (مفردات ) انہی معنوں کے پیش نظر وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا کے معنے صاحب مفردات نے کئے ہیں قَطْعًا لِلْعَمَلِ کہ ہم نے تمھاری نیند کو ایسا بنایا ہے کہ اُس سے تم اپنے کاموں سے کٹ جاتے ہو اور پھر تازہ دم ہو جاتے ہو (مفردات ) اقرب الموارد میں ہے اَلسُّبَاتُ: الدَّھْرُ یعنی زمانہ اَلدَّاھِیَۃُ مِنَ الرِّجَالِ۔آدمیوں میں سے بڑا لائق آدمی۔اَلنّوْمُ۔نیند۔وَقِیْلَ خِفَّتُہٗ وَقِیْلَ اِبْتَدَاءُ ہٗ فِی الرَّاسِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْقَلْبَ بعض کے نزدیک سُبَات کے معنے ہلکی سی نیند کے ہیں اور بعض نے اس کے معنے اُونگھ کے کئے ہیں لیکن اقرب الموارد کے مصنف لکھتے ہیں وَاَصْلُہُ الرَّاحَۃُ کہ اس کے اصل معنے آرام اور راحت کے ہیں (اقرب ) تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے تمھاری نیند کو سُبَات بنایا یعنی اگر کوئی شخص کہے کہ اسلام کے ذریعہ کُفر پر ایک نئے غلبہ کی کیا ضرورت ہے اگر کفر پر غلبہ ہی منشاء ہے تو آدم ؑ کے وقت یہ غلبہ ہو گیا۔نوح ؑکے وقت یہ غلبہ ہو گیا۔اب کسی نئے غلبہ کی کیا ضرورت ہے؟ تو اللہ تعالیٰ اس کے جوا ب میں فرماتا ہے وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا کیا زندگی میں تم دیکھتے نہیں کہ ایک جاگنے کا وقت ہوتا ہے اور ایک سونے کا وقت ہوتا ہے۔اسی طرح قوموں میں بیداری اور نیند کاایک تسلسل چلا جاتا ہے تا کہ نئی قوتیں لے کر انسان اُٹھے اور کفر کو شکست دینے کے لئے کھڑا ہو جائے۔اس طرح لوگ ایک لمبے عرصہ تک کوشش کرتے چلے جاتے ہیں۔مگرجب وہ اپنی ان کوششوں میں تھک جاتے ہیں جب ان کی تمام رغبتیں دنیا میں محدود ہو جاتی ہیں جب دین کی طرف سے وہ بے رغبتی کا اظہار کرنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کو چھوڑ دیتا ہے اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خرابیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ ایک نیا فضل نازل کرتا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے ایک نئے رُوحانی سورج کا طلوع کرتا ہے۔َ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا کے معنے اس آیت میں چونکہ نَوْم کا لفظ مذکور ہے اس لئے سُبَاتًا سے مراد نیند تو نہیں ہو سکتی جو اس کے معروف معنےہیں اور حل لغات میں بیان ہو چکے ہیں۔پس لازمًااس کے کوئی اور معنے ہوں گے اور