تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 251

فَضَائِلَہُ کہ فلاں شخص ساری قوم میں سے کریم ہے یعنی ساری قوم کی خوبیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔اقرب کے مؤلف لکھتے ہیں ’’اَلْکَرِیْمُ مَنْ یُّوْصِلُ النَّفَعَ بِلَا عِوَضٍ فَالْکَرْم ھُوَ اِفَادَۃُ مَا یَنْبَغِیْ لَا لِعِوَضٍ‘‘ یعنی کریم ایسے شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں کو نفع پہنچائے اور کسی سے معاوضہ کی خواہش نہ کرے (اقرب) پس کِرَامٌ کے معنے ہوں گے (۱)سخی (۲)بزرگ (۳)قوم میں سے بہترین (۴)ایسے لوگ جنہیں لوگوں کو بلا معاوضہ فائدہ پہنچانے کا جنون ہو۔بَرَرَۃٌ بَرَرَۃٌ جمع ہے اَلْبَرُّ وَالْبَارُّ کی جو کہ بَرَّ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔اور بَرَّ وَالِدَہٗ کے معنے ہیں اَحْسَنَ الطَّاعَۃَ اِلَیْہِ وَرَفَقَ بِہٖ وَتَحَرّٰی مَحَابَّہٗ وَتَوَقّٰی مَکَارِہَہٗ (اقرب) کہ اُس نے اپنے والد کی پوری اطاعت کی اور اُس کے ساتھ نرمی سے پیش آیا اور اس کی خوشنودی کے ذرائع کو تلاش کیا اور اُن پر عمل کیا اور ہر ایک اُس بات سے بچا جو اُس کے والد کو ناراض کرے۔تفسیر۔فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍمیں سور قرآن کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ہے جو مُکَرَّمَۃٌ ہیں مَرْفُوْعَہ ہیں اور مَطَھَّرَہ ہیں۔اس جگہ یہ امر یاد درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے صُحْفُ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جو جمع پر دلالت کرتا ہے صَحِیْفَہ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔اِس میں درحقیقت قرآن کریم کی سورتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت الگ الگ ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہیں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ان مختلف ٹکڑوں کو آپس میں یوں ہی جوڑ دیا گیا ہے کسی خاص حکمت کو مدنظر نہیں رکھا گیا مگر قرآن نہ صرف اُن کے علیحدہ علیحدہ نزول کو بلکہ اُن کے علیحدہ علیحدہ وجود کو تسلیم کرتا ہے اور ہر سورۃ کو ایک صحیفہ قرار دیتا ہے۔گویا صُحُف کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ اپنی ذات میں ایک علیحدہ اور مستقل مضمون رکھتی ہے ورنہ وہ صحیفہ نہیں کہلا سکتی تھی۔صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍکے الفاظ میں اس طرف اشارہ کہ قرآن مجید میں سب انبیاء کی تعلیم جمع کر دی گئی ہے دوسرےؔ صُحُف کہہ کر اُس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جس کا صُحُفِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی (الاعلٰی:۲۰ ) کے الفاظ میں ذکر آتا ہے یعنی صُحُف کہہ کر اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ صحف سابقہ کی تمام اعلیٰ درجہ کی اخلاقی اور روحانی تعلیموں کو جو انسانی فطرت کے مناسب حال تھیں اس قرآن میں جمع کر دیا گیا ہے گویا کتاب تو ایک ہی ہے مگر اس میں تمام انبیاء کے صحیفے جمع ہیں اسی لئے اُس کے لئے جمع کا لفظ لایا گیا اور صحیفہ کی بجائے صحف کہا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کو بھی صحف اِسی لئے کہا گیا ہے کہ اُس میں آپؐ سے پہلے تمام انبیاء ؑ