تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 250

کے کیا معنے تھے؟ پھر تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہ الزام بالکل سچے ہیں۔پس پہلے الزام بیان کرنا اور پھر کَلَّا کہنا بتاتا ہے کہ یہ الزام دشمنوں کی طرف سے غلط طور پر لگائے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں محض ھزء اور تہکم کے رنگ میں اُن کا ذکر کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہمارے رسول کو یوں کہا جاتا ہے۔مگر یہ بالکل جھوٹ ہے وہ ایسا نہیں بلکہ ان تمام الزامات سے پاک ہے۔فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰۱۴مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ۰۰۱۵بِاَيْدِيْ (وہ قرآن ایسے) صحیفوں میں ہے (جو) عزت والے ہیں بلند شان (اور) پاک ہیں (لکھنے والوں اور دُور دُور) سَفَرَةٍۙ۰۰۱۶كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ۰۰۱۷ سفر کرنے والوں کے ہاتھوں میں (ہیں) (ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جو) معزز ہیں اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہیں۔حَل لُغَات۔مُکَرَّمَۃٌ مُکَرَّمَۃٌ کَرَّمَ سے ہے اور کَرَّمَ کے معنے ہوتے ہیں عَظَّمَ وَنَزَّہٗ اس کی بڑائی بیان کی اور اس کو عیوب سے منزّہ قرار دیا (اقرب) اور مُکَرَّمَۃٌ کے معنے ہوئے مُعَظَّمَۃٌ وَمُنَزَّھَۃٌ عَنْ کُلِّ خَطَائٍ وَنَقْصٍ یعنی وہ جن کی عظمت بیان کی جاتی ہے اور جن کو تمام نقائص خرابیوں اور عیوب سے مبرّا قرار دیا جاتا ہے۔مَرْفُوْعَۃٌ مَرْفُوْعَۃٌ رَفَعَ سے ہے اور رَفَعَہُ (رَفْعًا) کے معنے ہوتے ہیں ضِدُّ وَضَعَہٗ اس کو اوپر کیا۔بلند کیا۔اور جب رَفَعَ اِلَی السُّلْطَانِ (رُفْعَانًا) کہیں تو معنے ہوں گے قَرَّبَہٗ کہ اس کو بادشاہ کا مقرب بنا دیا (اقرب) مُطَھَّرَۃٌ مُطَھَّرَۃٌ طَھَرَ سے ہے اور طَھَّرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ طَاھِرًا۔اُس کو پاک قرار دیا (اقرب) سَفَرَۃٌ۔سَفَرَۃٌ اَلسَّافِرُ کی جمع ہے اور اس کے دو معنے ہوتے ہیں۔ایک تو مسافر کے۔ان معنوں میں اس کا کوئی فعل نہیں آتا۔دوسرے معنی اس کے کاتب کے ہوتے ہیں (اقرب) کِرَامٌ۔کِرَامٌ کَرِیْمٌ کی جمع ہے اور اس کے معنے معزز اور بزرگ لوگوں کے ہیں (اقرب) کبھی کبھی لفظ کَرِیْم ایسے سخی آدمی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو لوگوں کو بہت ہی نفع پہنچائے اور کَرِیْمٌ اُس چیز کو بھی کہتے ہیں جو اپنی جنس میں سےبہترین ہو چنانچہ عرب کہتے ہیں اَلْکَرِیْمُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ مَا یَجْمَعُ