تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 249
کا فرض ہے اور مومن کو سُنانا بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض ہے۔پس اگر آپ قرآن شریف کفار کو سُنا رہے تھے تو ایک مومن کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ درمیان میں بولتا۔اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کا جواب نہیںدیا تو بالکل ٹھیک کیا۔کَلَّا کا استعمال کلام عرب میں مغنی اللبیب میں کَلَّا کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھا ہے عِنْدَ سِیْبَوَیْہِ وَ الْخَلِیْلِ وَ المُبَرِّ دِ وَ الزَّجَاجِ وَاَکْثَرِ الْبَصْرِیِّیْنَ حَرْفٌ مَعْنَاہُ الرَّدْعُ وَالزَّجْرُ لَا مَعْنَی لَھَا عِنْدَھُمْ اِلَّا ذَالِکَ حَتّٰی اِنَّھُمْ یُجِیْزُوْنَ اَبَدًا اَلْوَقْفُ عَلَیْھَا وَالْاِبْتِدَاءُ بِمَا بَعْدَ ھَا وَحَتّٰی قَالَ جَمَاعَۃٌ مِّنْھُمْ مَتٰی سَمِعْتَ کَلَّا فِیْ سُوْرَۃٍ فَاحْکُمْ بِاَنَّھَا مَکِّیَۃٌ لِاَنَّ فِیْھَا مَعْنَی التَّھدِیْدِ وَالْوَعِیْدِ وَاَکْثَرُ مَا نَزَلَ ذَالِکَ بِمَکَّۃَ لِاَنَّ اَکْثَرَ الْعَتُوِّ کَانَ بِھَا۔یعنی سیبویہ اور خلیل اور مبرّداور زجاج اور اکثر بصری کہتے ہیں کہ اس کے معنے زجر اور تردید کے ہوتے ہیں۔اُن لوگوں کے نزدیک اس کے سوا کَلَّا کے اور کوئی معنے ہی نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ہمیشہ کَلَّا کے لفظ پر وقف کر لینا اور مابعد کے فقرہ کو ایک نیا جملہ فرض کر لینا چاہیے۔اور ان میں سے ایک جماعت تو یہاں تک کہتی ہے کہ جب کسی سورۃ میں کَلَّا کا لفظ آئے تو سمجھ لو کہ وہ مکّی ہے کیونکہ اس لفظ کے معنوں میں ڈرانے اور دھمکی دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے اور زیادہ تر یہ لفظ مکّی سورتوں میں اترا ہے کیونکہ اکثر شرارتیں اور زیادتیاں مکّہ میں ہی ہوا کرتی تھیں اس پر صاحبِ مغنی نے بے شک اعتراض کیا ہے کہ قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ۔الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ۔فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ۔كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ (الانقطار :۷ تا ۱۰) اس میں کوئی تہدید یا وعید نظر نہیں آتا مگر یہ اعتراض بالبداہت باطل ہے اس لئے کہ قرآن کریم نے خود ہی بتا دیا ہے کہکَلَّا کے لفظ سے پہلے اعتراض ہی مراد تھا کیونکہ فرماتا ہے بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ تم جزاء سزا کو جھٹلاتے ہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیات میں ان لوگوں کا ردّ تھا جو جزاءسزاء کے منکر ہیں پس جب ایسے لوگوں کا ذکر تھا جو جزاءسزاء کے منکر تھے اور انہی کی تردید کی جار ہی تھی۔تو کَلَّا میں وعید اور تہدید مراد نہیں ہو گی تو کیا پیار مراد ہو گا؟ غرض بڑے بڑے نحویوں اور ادیبوں کی نگاہ میں کَلَّا کا لفظ منکرین اور مخالفین کے لئے استعمال ہوتا ہے اور تہدید اور وعید اس میں شامل ہوتی ہے۔پس كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ سے معلوم ہوا کہ پہلے اقوال خدا تعالیٰ کے مصدقہ نہیں بلکہ منکروں اور دشمنانِ اسلام کے ہیں جن کو ردّ کیا گیا ہے تبھی تو ہر اعتراض کے بعد اللہ تعالیٰ اُن کی تردید کرتا ہے اگر واقعہ اسی طرح ہوتا اور یہ الزام وہ ہوتے جن کی خدا تعالیٰ تصدیق کرتا ہے تو پھر ان آیات کے بعد کَلَّا کے استعمال