تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 248

آیات میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ابنِ اُم مکتوم کا ہدایت پر مرنا تیرے علم کی بات نہیں اور اِ س آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اِن کفار کے ہدایت نہ پانے پر تجھ سے کوئی باز پُرس نہ ہونی تھی پھر کس ذاتی غرض سے تُو نے ابن اُم مکتوم کی طرف توجہ نہ کی اور کس فائدہ کی وجہ سے تُو نے اُن کفار کی طرف توجہ کی نہ تو ابن اُم مکتوم کی طرف توجہ نہ کرنے میں تیرا کوئی فائدہ تھا۔اور نہ اُن کفّار کی طرف توجہ کرنے میں تیرا کوئی فائدہ تھا پس اِن واقعات کی موجودگی میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس واقعہ کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔(وہ وجہ وہی تھی جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں یعنی شریعت کے ظاہری احکام کی پابندی)۔اس کے بعد فرماتا ہے وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰى۔وَ هُوَ يَخْشٰى۔فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى یہ بھی کفار کا ہی قول ہے اور بطور ھزء و تحکم اِسے یوں بیان کیا گیا ہے گویاواقعہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ کفار یہ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص تیری طرف دَوڑتا ہوا آتا ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے اس کی طرف سے محمد (صلے اللہ علیہ وسلم ) بے اعتنائی کرتے ہیں چونکہ یہ ھزء اور تحکم کے طور پر عبارت ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىکے نئے کئے ہوئے معنے کی تائیدكَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌسے میرے اِن معنوں کا قطعی اور یقینی ثبوت اِس بات سے مِلتا ہے کہ اِن آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کَلَّا اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ اور کَلَّا کے معنے ہوتے ہیں جو پہلی بات کہی گئی ہے وہ غلط ہے اب یہ صاف بات ہے کہ پہلی بات جو کہی گئی ہے وہ وہی اعتراض ہیں جو دشمنوں کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے ہیں یعنی آپؐ نے ایک اندھے کے معاملہ میں بداخلاقی سے کام لیا اور بعض دولت مندوں کی طرف زیادہ توجہ کی۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ خدا تعالیٰ جس بات کی تردید کرے ہم اس کی تصدیق کریں۔کَلَّا کے لفظ نے بتا دیا ہے کہ یہ سب اعتراضات غلط ہیں۔پس جتنی باتیں پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض والی بیان ہوئی ہیں وہ بطور ھزء اور تہکم کے بیان کی گئی ہیں اور ظاہر الفاظ تو تصدیق کے ہیں لیکن اصل مراد انکار ہے جیسا کہ اس طریقِ کلام کا قاعدہ ہے۔کَلَّا کے معنے یہی ہوا کرتے ہیں کہ اس سے پہلے جو بات مذکور ہو اس کا اِس کلام سے سختی سے ردّ کیا جاتا ہے۔چنانچہ کلیات ابی البقاء میں لکھا ہے قَالَ عَمْرُوبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اِذَا سَمِعْتَ اللّٰہَ یَقُوْلُ کَلَّا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ کَذَبْتَ یعنی عمرو بن عبداللہ فرماتے ہیں جب تم خدا کے کلام میں کَلَّا کا لفظ پڑھو تو سمجھ لو کہ اُس کے معنے یہ ہیں کہ پہلی باتوں کا کہنے والا جھوٹا ہے۔پس كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ کے معنے یہ ہوئے کہ پہلے جو اعتراضات بیان کئے گئے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن کریم ایک نصیحت کی کتاب ہے کافر کو سُنانا بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم